کراچی ( ویب ڈیسک ) کراچی میں لگاتار دو روز ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث اربن فلڈنگ اور شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات پر سندھ حکومت نے معذرت کرلی۔
منگل کے روز کراچی میں ہونے 200 ملی میٹر کے قریب بارش ہوئی، جس کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی تھی، شہر کی اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کے باعث شہری کئی گھنٹوں تک پھنس گئے تھی، سڑکوں پر جمع پانی میں لوگوں کے پھنسے اور گاڑیوں ڈوبنے کی وڈیوز سوشل میڈیا پر جھنگل میں آگ کی طرح پھہیل گئی تھیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بدھ کے رات دیر تک صوبائی وزرا کے ہمراہ بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا اور نکاسی آب کا جائزہ لیا، تاہم اس کے باوجود سوشل میڈیا پر سندھ حکومت باالخصوص مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
نجی ٹی وی ( جیو نیوز ) کے ایک مارننگ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نے کہا کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش ہوئی، جس کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی، انہوں نے کہا کہ اتنی بارش میں بٹن دباکر پانی نہیں نکالا جا سکتا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی معذرت
وزیراعلیٰ سندھ نے ایک طرف شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کی اور دوسری طرف حکومت سندھ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں بارش کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی، جو نہیں ہونی چاہیے تھی، شہریوں کو جو مشکلات پیش آئیں، اس پر وہ معذرت خواں ہے۔
انہوں نے کہا کے بارش کے بعد سندھ حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا تاکہ شہری گھروں میں رہیں اور انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی نہ ہو، لیکن دوسری دن تعطیل ہونے کے باوجود شہری گھروں سے نکلے، اگر تیز بارش ہوتی اور لوگ دوبارہ پھنس جاتے تو انتظامیہ کو برا بھلا کہا جاتا۔
شرجیل میمن کی پریس کانفرنس
دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کراچی میں بارش وقفے وقفے سے ہوتی تو مسائل نہ ہوتے، پھر بھی شہریوں کو ہونے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جون کے مہینے سے پاکستان میں بارشوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ہے، موسمیاتی تبدیلی پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منگھو پیر میں 246 ملی میٹر اور کورنگی میں 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، سندھ حکومت پوری انتظامیہ کے ساتھ سڑکوں پر موجود رہی،پانی کی نکاسی کے لیے ہیوی مشینری لگائی گئی تھی۔ شہریوں کو جو تکلیف ہوئی اس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔
میڈیا ہاؤسز پر مہم چلانے کا الزام
سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ کراچی میں اموات بجلی کا کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں، کچھ میڈیا ہاؤسز پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت مہم چلا رہے تھے،ہم سب سڑکوں پر اور ٹی وی پر موجود تھے،اخبار نے لکھا کہ بارش کے دوران نکاسی آب بہتر رہی۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت پر ان جماعتوں نے بھی تنقید کی جن کے اپنے ادوار میں سیکڑوں اموات ہوئیں، حکومت سندھ نے عام تعطیل کی اور لوگوں سے اپیل کی کہ گھروں میں رہیں۔
سینئر وزیر نے مزید کہا کہ فاروق ستار کے ساتھ بیٹھنے میں انہیں اعتراض نہیں ہے، فاروق ستار نے بیان بازی کر کے معاملے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی، فاروق ستار کو اگر اتنی فکر ہے تو بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کیوں کیا گیا۔
وزیراعظم کے رابطے
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
پی ایم افس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی سمیت سندھ بھر میں شہری سیلاب اور قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا۔انہوں نے بارش اور سیلاب کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت سندھ کو ہر قسم کی معاونت کی پیشکش کی۔
وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو سندھ حکومت سے مکمل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پی ڈی ایم اے سندھ کو ہر قسم کی معاونت اور لوگوں کو ممکنہ خطرات کی پیشگی آگاہی فراہم کی جائے۔
شہباز شریف اور خالد مقبول صدیقی کے درمیان سندھ میں بارشوں اور سیلابی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔