لاس اینجلس ( ویب ڈیسک ) مختصر وڈیو ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے برطانیہ میں اپنے سیکڑوں ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنانے کی تصدیق کردی ہے۔ ٹک ٹاک نے تصدیق کی ہے کہ وہ برطانیہ میں ان ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آنے والے مواد کی نگرانی کرتے ہیں۔
ٹک ٹاک کے مطابق، اس منصوبے کے تحت یہ کام یورپ کے دیگر دفاتر کو منتقل کیا جائے گا کیونکہ کمپنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنی نگرانی کی صلاحیت کو بہتر بنانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
ٹک ٹاک کے ترجمان نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہم اُس تنظیم نو کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا آغاز گزشتہ سال کیا گیا تھا، تاکہ ہم اپنے ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے عالمی آپریشنل ماڈل کو مضبوط بنا سکیں، جس میں دنیا بھر میں محدود مقامات پر اپنی کارروائیوں کو مرکوز کرنا بھی شامل ہے۔
کمیونیکیشن ورکرز یونین کے ترجمان نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی ملازمین اور عوام کی حفاظت پر کارپوریٹ لالچ کو ترجیح دے رہی ہے۔
اے آئی پر انحصار خطرناک
سی ڈبلیوی وی کے ٹیکنالوجی کے نیشنل آفیسر جان چیڈ فیلڈ کے مطابق ٹک ٹاک کے ملازمین کافی عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ انسانی نگرانی کی ٹیموں میں کمی اور ناپختہ، جلدبازی میں تیار کردہ AI سسٹمز پر انحصار کے حقیقی دنیا میں خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کٹوتیاں ایسے وقت پر کی جا رہی ہیں جب کمپنی کے ملازمین اس بات پر ووٹنگ کرنے والے ہیں کہ آیا ان کی یونین کو باقاعدہ تسلیم کیا جائے یا نہیں۔
اس کے برعکس، ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس اہم فنکشن کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
متاثرہ ملازمین لندن میں واقع ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم میں کام کرتے ہیں، جب کہ ایشیا کے مختلف حصوں میں بھی اسی شعبے کے سینکڑوں ملازمین متاثر ہوں گے۔
ٹک ٹاک ایک خودکار نظام اور انسانی نگرانوں کا امتزاج استعمال کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، 85 فیصد قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے پوسٹس اس کے خودکار نظام (جس میں AI بھی شامل ہے) کے ذریعے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
ٹک ٹاک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی مدد سے انسانی نگرانوں کو تکلیف دہ مناظر دیکھنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
متاثرہ ملازمین کمپنی کے اندر دیگر عہدوں کے لیے درخواست دے سکیں گے، اور اگر وہ تقرری کے کم از کم معیار پر پورا اترے، تو انہیں ترجیح دی جائے گی۔
سیفٹی تفتیش
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب برطانیہ میں کمپنیوں کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر موجود مواد اور اسے دیکھنے والے ناظرین کی عمر کی جانچ مزید سختی سے کریں۔
آن لائن سیفٹی ایکٹ جولائی میں نافذ ہوا ہے، جس کے تحت کسی بھی کمپنی کی عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے اگر وہ قوانین کی پاسداری نہ کرے۔
اسی مہینے ٹک ٹاک نے نئے قوانیں متعارف کرائے، جن کے ذریعے والدین کچھ خاص اکاؤنٹس کو اپنے بچوں سے رابطہ کرنے سے روک سکتے ہیں، اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ ان کے نوعمر بچوں نے کون سے پرائیویسی سیٹنگز چُن رکھی ہیں۔
تاہم، برطانیہ میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کمپنی اب بھی مطلوبہ سطح پر کام نہیں کر رہی۔ مارچ میں برطانوی ڈیٹا واچ ڈاگ نے ٹک ٹاک کے خلاف ایک بڑی تفتیش” کا آغاز کیا تھا۔
بی بی سی کے مطابق اس وقت ٹک ٹاک نے بتایا تھا کہ اس کے ریکمنڈیشن سسٹمز سخت اور جامع اصولوں کے تحت چلتے ہیں جو نوعمر صارفین کی پرائیویسی اور تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔