لاہور ( ویب ڈیسک ) پاکستان کرکیٹ بورڈ کے چئیرمین اور وزیر داخلا محسن نقوی نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ دہلی کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات برابری کی بنیاد پر ہوں گے، اب مذاکرات کے لیے کوئی منت سماجت نہیں ہوگی
محسن نقوی کا یے بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کی وزارت کھیل نے ایک نئی پالیسی جاری کی ہے، جس کے تحت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کھیلوں کے تعلقات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، چاہے وہ غیر جانبدار مقامات پر ہی کیوں نہ ہوں
تاہم کثیرالملکی ٹورنامنٹس میں دونوں ممالک کے درمیان میچز پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، جس کے نتیجے میں آئندہ ماہ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان متوقع ٹاکرا بدستور جاری رہے گا۔
گزشتہ ماہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ملک کی کھیلوں کی فیڈریشنز کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھارت میں ہونے والے ایونٹس میں شرکت کے لیے پیشگی اجازت حاصل کریں۔
مذاکرات کے لیے درخواست کا وقت گذر گیا
پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے ہفتے کے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس کی، انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے کھیلوں کے تعلقات برابری کی سطح پر ہوں گے، اور اب مذاکرات کے لیے کسی قسم کی درخواست یا منت سماجت نہیں کی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہماری پوزیشن بالکل واضح ہے کہ جب بھی بھارت کے ساتھ بات چیت ہوگی، وہ برابری کی بنیاد پر ہوگی۔ اب مذاکرات کے لیے درخواست کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ جو کچھ بھی ہوگا، وہ برابر کے تعلقات کی بنیاد پر ہوگا۔
ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سوال
جب ان سے قومی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی اور ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں یا بہتری سے متعلق سوال کیا گیا، تو چئیرمین پی سی بی نے جواب دیا کہ ہماری کوشش ہے کہ ٹیم جلد ہی بہتری دکھائے گی،
انہوں نے وضاحت کی کہ میرے پاس ٹیم سلیکشن میں ایک فیصد بھی کردار نہیں ہے۔ ایک سلیکشن کمیٹی اور مشاورتی ٹیم موجود ہے، جنہوں نے گھنٹوں اور دنوں پر مشتمل کئی سیشنز میں اسکواڈ کا جائزہ لیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں کہا ہے کہ فیصلہ صرف میرٹ پر ہونا چاہیے، اور میں ان کے فیصلے کی مکمل حمایت کروں گا۔ جو کھلاڑی ہمارے پاس دستیاب تھے، ہم نے انہیں پالش کیا اور آگے لے کر چلے۔
چئیرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے تاکہ کرکٹ میں مقابلے کا ماحول پیدا ہو اور بہترین ٹیلنٹ سامنے آئے،
متحدہ عرب امارات میں شیڈیول ایشیا کپ سے متعلق سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ ایک خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے جو ویزے کے امور کو دیکھے گا، اور جس کسی کو ویزے کی ضرورت ہو گی، اسے فراہم کیا جائے گا۔
رضوان اور بابر کو کیوں نکالا
سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل نے کرنے کے سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو باہر کرنے کا فیصلا سلیکشن کمیٹی کا تھا، اس میں میرا کوئی ذاتی کردار نہیں، رضوان کی کپتانی میں بابر اعظم کو شامل نہ کرنے میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔
محسن نقوی نے اپیل کی کہ ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف میچ میں قومی ٹیم کا بھرپور ساتھ دیں اور غیر ضروری تنقید سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کی تنقید سے کھلاڑیوں کا مورال متاثر ہوتا ہے۔
ایشیا کپ
متحدہ عرب امارت میں شیڈول ایشیا کپ میں بھارت، عمان، پاکستان اور متحدہ عرب امارت کی ٹیم کو گروپ اے میں رکھا گیا ہے، بھارت اپنا پہلا میچ 10 ستمبر کو یو اے ای کے خلاف کھیلے گا۔
روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیاں سنسنی خیز میچ 14 ستمبر کو اتوار کے دن دبئی انٹرنیشل کرکیٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائیگا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیاں ہونے والے گذشتہ پانچ میچز میں سے بھارت نے تین میچز میں کامیابی حاصل کی ہے، پاکستان نے دو میچز میں بھارت کو شکست دی ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک 13 ٹی 20 میچز کھیلے گئے ہیں، جن میں بھارت کا پلڑہ بھاری ہے، بھارتی ٹیم 10 اور پاکستان نے تین میچز جیتے ہیں۔