ماسکو ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) روس نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی 34 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ایک ڈرون حملہ کیا، جس سے ایک جوہری پلانٹ میں آگ لگ گئی اور ایک ضمنی ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا۔
اتوار کو ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں یوکرین کی سرحد کے قریب واقع کورسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر 3 کی کام کرنے کی صلاحیت کو 50 فیصد تک کم کرنا پڑا، روسی حکام کے مطابق، رات بھر کے حملوں میں کئی توانائی اور بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
پلانٹ کی نیوز سروس نے بتایا کہ جوہری پلانٹ میں لگنے والی آگ پر جلد قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مزید بتایا گیا کہ دو دیگر ری ایکٹرز بغیر بجلی پیدا کیے چل رہے ہیں جبکہ ایک شیڈول کے تحت مرمت میں ہے، تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
کورسک کے قائم مقام گورنر الیگزینڈر خنشٹین نے کہا کہ یوکرین کے جانب سے پلانٹ پر حملے جوہری تحفظ کے لیے خطرہ اور تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ جو اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی کہ کورسک نیوکلیئر پلانٹ کے قریب تابکاری کی سطح معمول پر ہے۔
ادارے نے ایکس ( سابق ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ سے تصدیق ہوئی ہے کہ کورسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب تابکاری کی سطح معمول پر ہے۔
روس اور یوکرین پہلے بھی جنوب مشرقی یوکرین میں واقع زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک دوسرے پر حملوں کا الزام عائد کر چکے ہیں، جس سے جوہری حادثے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے، یہ پلانٹ یورپ کا سب سے بڑا اس وقت روس کے قبضے میں ہے۔
روسی سرزمین پر دیگر حملے
روس کے مغربی علاقے لینن گراڈ میں واقع بندرگاہ اوست لوگا میں بھی آگ لگ گئی، جہاں ایندھن برآمد کرنے کی ایک بڑی تنصیب موجود ہے۔ علاقائی گورنر کے مطابق تقریباً 10 یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے، جن کا ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اُٹھی۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق، اتوار کی صبح تک یوکرین کے 95 ڈرونز کو فضا میں تباہ کیا گیا۔ جوابی کارروائی میں، روس نے بھی 72 ڈرونز، ڈیکوائے اور ایک کروز میزائل یوکرین پر داغے، یوکرینی فضائیہ کے مطابق ان میں سے 48 ڈرون مار گرائے یا جام کر دیے گئے۔
زیلنسکی کا یوم آزادی پر خطاب
یہ تمام واقعات یوکرین کے یومِ آزادی کے موقع پر پیش آئے، جب ملک نے سوویت یونین سے 1991 میں آزادی کے اعلان کی 34 ویں سالگرہ منائی۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کیف کے آزادی اسکوائر سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ہم ایک ایسا یوکرین تعمیر کر رہے ہیں جو سیکیورٹی اور امن کے ساتھ جینے کے لیے کافی طاقتور ہو گا۔
انہوں نے اس مہینے امریکہ اور روس کے درمیان الاسکا میں ہونے والی سمٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا یوکرین کو برابر کی حیثیت سے دیکھتی اور اس کا احترام کرتی ہے۔
روس کا رد عمل اور سفارتی کشمکش
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضد کر رہے ہیں، شرائط رکھ رہے ہیں اور ہر قیمت پر صدر پیوٹن سے فوری ملاقات کے خواہاں ہیں۔
لاوروف نے یوکرینی حکام پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ پیوٹن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے شدہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے اچھے نتائج سامنے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر، امریکی حکومت کی جانب سے زیلنسکی اور پیوٹن کے درمیان ملاقات کروانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ جنگ کے حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسی دوران، مشرقی یوکرین میں لڑائی جاری ہے۔ روس نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے ڈونیٹسک ریجن میں دو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔