ملک میں ایک بار شدید بارشوں کا الرٹ جاری، سیاحت پر پابندی کی تجویز

فہرستِ مضامین

کراچی ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) این ڈی ایم اے نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں متوقع شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا، دوسری جانب چیئرمین این ڈی ایم اے نے بارشوں کے موسم میں سیاحت پر پابندی کی تجویز دیدی ہے۔

این ای او سی کے مطابق پنجاب میں گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہوراورقصورمیں شدید بارشوں کا امکان ہے،  اگلے 12سے 24 گھنٹوں کے دوران جہلم، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، ننکانہ صاحب،چنیاں اور پاکپتن میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔

الرٹ کے مطابق شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال سمیت ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، شدید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلابی صورتحال بھی متوقع ہے۔

آزاد کشمیر کے اضلاع بشمول نیلم ویلی، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ، مظفرآباد اور حویلی میں اگلے 12تا24گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اورپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

این ڈی ایم ای الرٹ

این ڈی ایم اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پہاڑی نالوں میں پانی کا تیز بہاؤ رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو متاثر کر سکتا ہے، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اضافے اور ممکنہ سیلابی صورتحال پرپہلے ہی الرٹ جاری ہو چکا ہے۔

حکام کے مطابق متعلقہ اداروں نے ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلاء کی کاروائیاں شروع کر دیں ہیں، پی ڈی ایم اے پنجاب، ریسکیو 1122 اور پاک آرمی کے انجینئرز سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی کاروائیوں میں مصروف  ہیں۔

حکام نے عوام کو دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کردی ہے اور کہا گیا ہے کہ عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں۔

سیاحت پر پابندی کی تجویز

دوسری جانب چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے بارشوں کے موسم میں سیاحت پر پابندی کی تجویز دیدی ہے، انہوں نے یے تجویز پارلیامینٹ کی پبلک اکاؤنٹس کے اجلاس میں دی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے پی اے سی کو بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے ہاں 200 ملی میٹر بھی آفت بن جاتی ہے،بارشوں کے موسم میں سیاحت پر دو سے تین ہفتے پابندی ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کے چین کے پاس ایسی ٹیکنالوج موجود ہے جو 12 ماہ پہلے ڈزاسٹر بتادیتی ہے اور ہم نے بھی ڈزاسٹر کے حوالے سے ایسا سسٹم بنا لیا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔ اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو ملک کے 7500 گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے، جس کے بعد خشک سالی، فوڈ سکیورٹی اور پانی کی قلت کے مسائل پیدا ہوں گے۔

دریاؤں کی صورتحال

دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،  دریائے چناب راوی ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں آئندہ 48 گھنٹوں میں اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔، دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ  گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 88 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے،  سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 2 ہزار کیوسک ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے، ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 90 ہزار اور اخراج 1 لاکھ 72 ہزار کیوسک ہے، ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں