سینئر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی خورشید شاہ کی طبعیت ناساز، سکھر سے کراچی منتقل

فہرستِ مضامین

سکھر/کراچی ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خورشید شاہ کو طبعیت کی ناسازی پر سکھر سے کراچی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے

پیر کے روز سید خورشید شاہ کو طبعیت کی ناسازی پر سکھر کی این آئی سی وی ڈی منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خورشید کو مائنر فالج اٹیک ہوا ہے۔

خورشید شاہ کو منگل کے روز این آئی سی وی ڈی سکھر سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خصوصی طیارے میں کراچی منتقل کیا گیا، جہاں وہ نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق خورشید شاہ چند روز کراچی میں قیام کرینگے، جہاں ان کا علاج ہوگا، طبعیت بہتر ہونے کے بعد خورشید شاہ کی سکھر واپسی کے حوالے سے فیصلا کیا جائیگا۔

میٹر ریڈر سے سیاست تک

خورشید شاہ 20 اپریل 1952 کو سکھرمیں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ سائنس کالیج سکھر سے حاصل کی،سیاست میں دلچسپی ان کو طالب علم کے زمانہ سے تھی، وہ سنہ 1970 میں اسلامیہ کالیج میں اسٹوڈنٹ یونین کے صدر بن گئے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد خورشید شاہ نے بلدیاتی انتخابات مین حصہ لیا اور کونسلر منتخب ہوگئے، کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے واپڈا میں میٹر ریڈر کی ملازمت اختیار کی، لیکن بعد میں انہوں نے سیاست کو ترجیح دیگر میٹر ریڈر کی ملازمت سے مستعفی ہوگئے۔

وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اسٹوڈنٹس ونگ سپاف ( سندھ اسٹوڈنٹس فیدریشن میں سرگرم ہوئے، سنہ 1990 کے انتخابات میں وہ سکھر سے قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد سے وہ سنہ 2018 کے انتخابات تک سات مرتبہ مسلسل کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔

سنہ 2002 کے انتخابات میں وہ صوبائی اسمبلی سے بھی امیدوار تھے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے امیدواروں میں بھی ان کا شمار کیا جاتا تھا۔ لیکن ان کا نامزدگی فارم رد ہوگیا جس کے بعد انھیں قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر منتخب کیا گیا۔

جب بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی میں تھیں تو خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے فرائض دیے۔ سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں وہ اوورسیز پاکستانی اور مذہبی امور کے وزیر رہے۔

پارٹی سے اختلاف اور گرفتاری

سکھر کی سطح پر پارٹی سیاست میں اسلام شیخ کی آمد نے انھیں شہری سیاست سے سکھر کی دیہی سیاست تک محدود کر دیا۔ اسلام الدین شیخ آصف علی زرداری کے قریب رہے ہیں اور ٹکٹوں کی تقسیم پر دونوں کے درمیان بیان بازی ہوتی رہی ہے، لیکن اس کے باوجود خورشید شاہ کے داماد اویس شاہ اور بیٹے فرخ شاہ رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔

خورشید شاہ نے اپنے سیاسی سفر میں قید و بند کی صعوبتوں کا بہت کم عرصہ سامنا کیا ہے۔ تحریک بحالی جمہوریت کے دوران وہ مختصر وقت کے لیے گرفتار ہوئے اور جب سنہ 2007 میں بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوا جس میں بینظیر بھٹو کو گھر میں نظر بند کیا گیا تو خورشید شاہ ان کے ہمراہ تھے۔

قومی احتساب بیورو  ( نیب) نے 2012 میں خورشید شاہ کے خلاف آمد سے زائد اثاثوں کا ریفرنس دائر کیا، جبکہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ان کے خلاف کرپشن کے مزید دو کیس ری اوپن ہوئے۔

جولائی 2019 میں اس وقت کے نیب چئیرمیں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سیاستداںوں کے خلاف 9 انکوائریز کی منظوری دی، جس میں خورشید شاہ کا نام بھی شامل تھا۔

آخرکار 18 ستمبر 2019 کو خورشید شاہ کو نیب  نے آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار کیا اور اگلے ہی روز ان کے خلاف مزید دو ریفرنس بھی عدالت میں جمع کروائے۔

نیب ریفرنس میں خورشید شاہ، ان کے دو بیٹوں فرخ شاہ، زیرک شاہ، داماد سید اویس قادر شاہ جو اس وقت سندھ اسمبلی کے اسپیکر ہیں، ان کے دو بھانجوں کو شامل کیا گیا تھا۔

جیل میں دو سال قید رہنے کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے 2023 میں خورشید شاہ کی ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد ان کو سکھر جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں