اسلام آباد ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پنجاب میں سیلاب کی صورتحال کے بعد 2 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تصدیق کردی ہے۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور وفاقی وزیر اطلات و نشریات عطا تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور سیلاب سورتحال میں ریسکیو آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آرمی چیف کی ہدایات پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، فوج کے تمام جوان اور افسر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، عوام اور افواج ایک ہی ہیں، کوئی قوت دراڑ نہں ڈال سکتی۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں پلوں اور شاہراہوں کی بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے، امدادی کارروائیوں کے دوران فوج کے دو جوان شہید اور اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
104 سڑکیں مکمل طور پر کلیئر کرلی ہیں
پاکستانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر اس وقت ایک انجینئر بریگیڈ اور 30 یونٹس صرف سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہیں جس میں 19 انفینٹری یونٹس، سات انجینئر اور چار میڈیکل یونٹس شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے باوجود پاکستان آرمی کے جوان امدادی کارروائیوں میں مصرف ہیں، تین بڑے پل جن میں دو خیبرپختونخوا اور ایک گلگت بلتستان میں تھا کا مرمتی کام مکمل کرلیا ہے، شاہراہ قراقرم کھول دی گئی ہے، جب کہ آرمی انجینیئرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر 104 سڑکیں مکمل طور پر کلیئر کرلی ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ’سیلابی صورتحال کے باوجود ہماری ورکنگ باؤنڈری اور بارڈر ہے، وہاں پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور پاکستان کے عظیم وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مزید بتایا کہ امدادی کاموں کے علاوہ فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر خارجیوں اور دہشت گردوں کے خلاف امن قائم کرنے کے لیے آپریشن اسی طرح جاری ہیں۔ خیبرپختونخوا کی عوام مشکل میں ہے تو وہ کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
عطا تارڑ کی بریفنگ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک کے تین دریاؤں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے، انھوں نے کہا کہ قادر آباد کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھے گا جب کہ دریائے ستلج میں گندھارا سے ہیڈ خانکی کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے خیمے اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی جا رہی ہیں۔
لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالا اور نارووال میں مزید بارشیں
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال میں مزید بارشیں متوقع ہیں، آئندہ دو روز میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پوری طرح تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج کے اطراف سے دو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، ہیڈ خانکی میں 10 لاکھ کیوسک ریلہ موجود ہے پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق جموں میں فلش فلڈ اور بادل پھٹنے سے نقصان ہوا ہے۔
کوٹڑی یا گدو بیراج پر دباؤ آئے گا
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، چیف سیکریٹریز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، ملٹری فارمیشنز کو آرمی چیف کی طرف سے ہدایات دی جا چکی ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ 29 اگست سے 9 ستمبر تک مون سون کا آخری سپیل آئے گا جس میں انھی علاقوں میں دوبارہ بارشیں ہونے کی توقع ہے جس کے لیے تمام الرٹس متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے کہ کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباؤ آئے گا اور اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس
دوسری جابب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پنجاب میں شدید بارشوں اور دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظراجلاس ہوا، این ڈی ایم اے چئیرمین نے اجلاس کو سیلاب کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
بدھ کو وزیراعظم افس کی میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب میں شدید بارشوں کے بعد ہدایات دیں کہ پیشگی اطلاع پہنچانے کا سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے۔
شہیباز شریف نے ہدایات دیں کہ گجرات، سیالکوٹ، لاہور میں اربن فلڈنگ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں،چیئرمین این ایچ اے اور لاہور پہنچ کر صوبائی حکومت کے ساتھ عملی اور بھرپور تعاون کریں۔