ججز کے گھروں میں بجلی کا بریک ڈاؤن، کے الیکٹرک افسران کی عدالت کی معافی

فہرستِ مضامین

سندھ ہائیکورٹ کے ججز کے گھروں میں بجلی بند ہونے کے معاملے پر عدالت کی جانب سے لیے گئے نوٹس کے بعد کے الیکٹرک کے افسران عدالت میں پیش ہوئے اور معافی مانگی۔

افسران نے بتایا کہ بارشوں کے بعد ججز کے گھروں میں بجلی بند ہوئی تھی، اور اب بریک ڈاؤن اور فالٹس سے بچنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، متعلقہ علاقوں کے افسران کے نام اور رابطہ نمبر بھی فراہم کر دیے گئے ہیں۔

غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی

کے الیکٹرک کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بعض افسران کے تبادلے ہو چکے ہیں، جبکہ جن افسران نے غفلت برتی ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، حکام نے کہا کہ انہیں شہریوں کی مشکلات کا احساس ہے، واضح رہے کے 22 اگست کو ایڈیشنل رجسٹرار کوآرڈینیشن کی جانب سے کے الیکٹرک کے ایم ڈی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ججز کے گھروں کی بجلی کب بند ہوئی تھی؟

20 اگست کو کراچی کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے بعد کئی علاقوں کی بجلی بند ہو گئی تھی، کئی مقامات پر بجلی 16 گھنٹے تک معطل رہی، جس کے خلاف شہریوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

کے الیکٹرک کے ترجمان نے اس وقت کہا تھا کہ بارش کی وجہ سے شہر کے 555 فیڈرز ٹرپ کر گئے تھے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی۔

بجلی فراہم کرنا کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے: عدالتی نوٹس

22اگست کو جاری کیے گئے نوٹس میں عدالت نے کہا تھا کہ کے الیکٹرک نیپرا قانون کے تحت شہریوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی پابند ہے، نوٹس میں بجلی کی بندش پر کے الیکٹرک حکام سے جواب طلب کیا گیا تھا، جس کے بعد افسران عدالت میں پیش ہوئے

کے الیکٹرک کے افسران دو بھائیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار

20 اگست کو کراچی کے علاقے ناٹھا خان گوٹھ میں کرنٹ لگنے سے دو بھائی جاں بحق ہو گئے تھے، متاثرہ خاندان کی جانب سے مقدمہ درج کرایا گیا، جس پر پولیس نے ابتدائی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

رپورٹ میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی اور دیگر افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حادثہ کے الیکٹرک کے عملے کی غفلت کے باعث پیش آیا۔

لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست سننے سے انکار

12 اگست کو کراچی کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں بینچ کے سربراہ جسٹس اقبال کلہوڑو نے درخواست سننے سے معذرت کی، بینچ سے علیحدگی کے بعد معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا تھا، تاہم عدالت نے کیس کی سماعت 12 آگست تک ملتوی کردی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں