کراچی ( ڈبلیو ٹی این ) مشہور میوزک اسٹریمنگ سروس اسپاٹیفائی کو میوزک کی دنیا میں خاموش انقلاب کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں گانوں، پوڈ کاسٹس اور آڈیوز تک رسائی فراہم کرنے والی اسپاٹیفائی کو 2006 میں سویڈن کی کمپنی نے لانچ کیا تھا، مگر اب یے پاکستان سمیت دنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہے۔
اسپاٹیفائی کو استعمال کرنا اب بہت آسان ہے کیونکہ یہ آفیشلی طور پر فروری 2021 میں پاکستان میں لانچ ہو چکی ہے، قانونی اور مکمل طریقے سے اسپاٹیفائی پر کوئی بھ شخص اپنا اکاؤنٹ بنا سکتا ہے اور میوزک یا پوڈکاسٹس سن سکتے ہیں۔
مشہور سوشل پلیٹ فارم فیس بک اور اسپاٹیفائی ویسے تو دو الگ الگ چیزیں ہیں مگر دونوں کی لانچ کی کہانی تقریبن ملتی جتی ہے، فیس بک کا آغاز 2004 میں امریکا کے ہارورڈ یونیورسٹی کے طالب علم مارک زکبرگ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیا، جس کا مقصد جاننے والوں، دوستوں اور دوستوں سے رابطے میں رہنا تھا۔
اسپاٹیفائی کی لانچنگ
اسپاٹیفائی کی لانچنگ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی دلچسپ ہے، سویڈن کے شہری ڈینیل ایک نے اس کو اس مقصد کے لیے لانچ کیا تاکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں دنیا کا ہر گانا، ہر شخص کو، صرف ایک کلک میں دستیاب ہو۔
2006 میں اسپاٹیفائی کو سرکاری طور پر سیویڈن میں لانچ کیا گیا، تھوڑے سے وقت میں یورپ بھر میں اسے سراہا گیا، اس میوزک اسٹریمنگ کی امریکہ میں لانچ نے Apple iTunes کو سخت ٹکر دی،نت نئے فیچرز جیسے ڈسکور ویکلی، وریپڈ اور اسپاٹیفائی فار آرٹسٹس نے اسے میوزک انڈسٹری کا ہیرو بنا دیا۔
اسپاٹیفائی کراچی کے نوجواں میں بھی مقبول
دنیا بھر کی طرح اسپاٹیفائی پاکستان میں بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے، خاص طور پر کراچی کے نوجوان میں اس کا استعمال ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔
اگست کے مہینے میں نوجوانوں اور ہِپ ہاپ موسیقی کے عالمی ایام کے موقع پر اسپاٹیفائی نے پاکستان کی نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے موسیقی کے ذوق اور رجحانات پر روشنی ڈالی گئی تو پتا چلا کہ اسمارٹ فونز اور ایئر بڈز کے ساتھ نوجوان صرف گانے نہیں سنتے بلکہ وہ عالمی آڈیو پلیٹ فارم پر نئی کمیونٹیز تشکیل دے رہے ہیں۔
اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی نوجوان سب سے زیادہ رات 10 بجے سے آدھی رات تک موسیقی سنتے ہیں اور موبائل کا استعمال بدستور ان کا سب سے پسندیدہ کام ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان صرف موسیقی کی سماعت تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی پلے لسٹس بھی بنا رہے ہیں، جو اس سال 45 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ ان پلے لسٹس میں انورال خالد اور مانو کا گیت، ‘جھول’، عبدالحنان اور روالیو کا گیت، ‘بکھرا’، اور حسن رحیم، عمیر اور تلوندر کا ”وشز” قابل ذکر طور پر شامل ہیں۔
ہِپ ہاپ کی اسٹریمنگز میں 245 فیصد اضافہ
ہِپ ہاپ کی بات کی جائے تو پاکستانی نوجوان صرف سامعین نہیں رہے بلکہ اب وہ رجحان ساز بن چکے ہیں۔ 2022 سے اب تک ہِپ ہاپ کی اسٹریمنگز میں 245 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس میں سب سے پیش پیش طلحہ انجم ہیں، جن کے گیت، ‘ڈیپارچر لین’ اور ‘ہارٹ بریک کِڈ’ نے ریلیز کے بعد بالترتیب 2700 فیصد اور 500 فیصد اضافہ ہوا۔
اسپاٹیفائی کی پاکستان اور یو اے ای کے لیے آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپ منیجر رطابہ یعقوب نے کہا، ”جنریشن زی (Gen Z)کا نیا میوزک سننے اور اپنانے کا رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نسل بے خوف اور تخلیقی ہے اور تجربات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
نئی کمیونٹیز کی تشکیل
یہ جنریشن صرف گانے سننے والی نہیں ہے بلکہ پلے لسٹس بنا کر نئی کمیونٹیز کو تشکیل دے رہی ہے۔ یہ نسل واضح طور پر پاکستان کے میوزک منظرنامے کی نئی سمت متعین کر رہی ہے اور اپنے پسندیدہ گلوکاروں کی آواز کو سامنے لاکر عالمی سطح تک پہنچا رہی ہے۔
نوجوانوں کی پسندیدہ فہرست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ پرانی یادوں اور نئے انداز دونوں کو قبول کرتے ہیں۔ طلحہ انجم، عمیر، عاطف اسلم، حسن رحیم اور بیان چارٹس میں سب سے زیادہ سنے جانے والے گلوکاروں میں شامل ہیں۔
اسپاٹیفائی کی رپورٹ مقامی ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کے ساتھ یہ پہلو بھی واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے نوجوان جذبے، تخلیقی صلاحیت اور موسیقی کے ذریعے نہ صرف آپس میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ اپنی ثقافت کو برقرار رکھنے کے ساتھ عالمی سطح پر اپنی پہچان قائم کر رہے ہیں۔