بینکاک، تھائی لینڈ ( ڈبلیو ٹی این مانیٹرنگ ) تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے معطل وزیرِاعظم پیٹونگتارن شیناوترا کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ عدالت نے انہیں کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین سے متنازعہ فون کال پر اخلاقی بدعنوانی کا مرتکب پایا۔
یہ فیصلہ جمعے کے روز سنایا گیا، اور اس کے نتیجے میں پیٹونگتارن 2008 کے بعد پانچویں وزیرِاعظم بن گئیں جنہیں تھائی عدلیہ نے عہدے سے ہٹایا۔ اس فیصلے نے تھائی لینڈ کو سیاسی غیر یقینی کی حالت میں دھکیل دیا ہے اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
نو ججوں پر مشتمل عدالت، جسے اکثر تھائی لینڈ کے شاہ پرست عسکری ادارے کا حمایتی سمجھا جاتا ہے، اس نے فیصلہ دیا کہ 39 سالہ سیاستدان پیٹونگتارن نے کمبوڈیا کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے دوران ہن سین سے گفتگو کرکے وزیرِاعظم کے اخلاقی معیار کی سنگین خلاف ورزی کی۔
متنازعہ فون کال
لیک ہونے والی فون کال میں پیٹونگتارن کو ہن سین کو “انکل” کہہ کر مخاطب کرتے اور ایک سینئر تھائی فوجی کمانڈر کو مخالف قرار دیتے سنا گیا۔ اس کے بعد سرحدی تنازعہ مسلح جھڑپوں میں بدل گیا، جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے۔
عدالت، جس نے پہلے ہی پیٹونگتارن کو مقدمے کے دوران معطل کر رکھا تھا، نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہن سین کے ساتھ گفتگو میں پیٹونگتارن نے قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دی، جس سے عوام کا ان کی قیادت پر اعتماد مجروح ہوا۔
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا عدالت اکثریتی ووٹ سے فیصلہ کرتی ہے کہ پیٹونگتارن کی وزارت عظمیٰ فوری طور پر ختم کی جاتی ہے۔
پیٹونگتارن شناوترا کا رد عمل
عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹونگتارن نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا، انہوں نے کہا کہ میری نیت ملک کے فائدے کے لیے تھی، ذاتی مفاد کے لیے نہیں۔ میرا مقصد عام شہریوں اور فوجیوں کی زندگیوں کا تحفظ تھا، “اس وقت ہمیں متحد ہو کر ملک کے استحکام کے لیے کام کرنا چاہیے۔
یہ ایک سال میں دوسرا موقع ہے کہ کسی وزیرِاعظم کو عدالتی فیصلے کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ان سے پہلے وزیراعظم سرتھا تاویسن بھی مبینہ اخلاقی خلاف ورزیوں پر برطرف کیے گئے تھے۔
عدالتی فیصلی پر رد عمل
سنگاپور کے ، یوسف اشاک انسٹی ٹیوٹ میں تھائی لینڈ اسٹڈیز پروگرام کے کوآرڈینیٹر نپون جاتُسرِپِتک نے عدالتی فیصلے پر رد عمل میں کہا کہ یہ فیصلہ عدالتی مداخلت کی ایک خطرناک روایت کو مزید مستحکم کرتا ہے، جہاں غیر منتخب ججز ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے۔
یہ فیصلہ پیٹونگتارن اور ان کے والد، سابق وزیرِاعظم تھاکسن شیناوترا، کے خلاف تین اہم عدالتی کیسز میں سے دوسرا ہے۔ 76 سالہ تھاکسن کو گزشتہ ہفتے بادشاہت کی توہین کے ایک مقدمے سے بری کر دیا گیا، لیکن ان پر اب بھی ایک مقدمہ چل رہا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جیل کے بجائے اسپتال کے وی آئی پی کمرے میں قیام کیا، جب وہ 2023 میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے۔
تھاکسن اس وقت واپس آئے جب ان کی جماعت “فیو تھائی پارٹی” نے عام انتخابات میں پارلیمنٹ کی ایک تہائی نشستیں جیتیں اور کچھ قدامت پسند جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں شامل ہو گئی۔ ان جماعتوں میں وہ پارٹیاں بھی شامل تھیں جو فوج کی حمایت یافتہ تھیں، جنہوں نے 2006 میں تھاکسن اور 2008 میں ان کی بہن ینگ لک کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔
عوامی رد عمل
فیو تھائی پارٹی کے ایک حامی 52 سالہ پائیسان جانپین نے کہا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے؛ یہ شیناوترا خاندان کو سیاست سے ختم کرنے کی کوشش ہے تاکہ قدامت پسند طبقہ اقتدار میں رہے، میں فیو تھائی پارٹی پر ابھی بھی یقین رکھتا ہوں، چاہے قیادت کوئی بھی کرے۔ اب دنیا جان گئی ہے کہ یہ 9 جج ہمارے رہنماؤں کو ہٹانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، قدامت پسند طبقہ تھاکسن کے خلاف باقی عدالتی مقدمے کو دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے تاکہ فیو تھائی کو ایک نئی اتحادی حکومت میں کمزور شراکت دار کے طور پر شامل کیا جا سکے۔
نپون نے کہا فیو تھائی ممکنہ طور پر اس قسم کے معاہدے پر راضی ہو جائے گا، کیونکہ تھاکسن کے خلاف اسپتال قیام والا مقدمہ اب بھی باقی ہے، مستقبل ابھی غیر یقینی ہے۔ پیٹونگتارن کا کوئی واضح جانشین نظر نہیں آتا، اور ایسی کوئی مضبوط اتحادی تشکیل بھی دکھائی نہیں دیتی جو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹ سکے۔
تھائی آئین
موجودہ تھائی آئین، جو فوج کی نگرانی میں تیار کیا گیا، جس کے مطابق صرف وہی سیاستدان وزیرِاعظم بن سکتے ہیں جنہیں 2023 کے انتخابات سے قبل ان کی جماعت نے نامزد کیا ہو۔ فیو تھائی کے پاس اب ایک ہی امیدوار باقی ہے، جو 77 سالہ چائیکاسم نیتیسری، جو تھاکسن کے وفادار اور سابق وزیرِانصاف ہیں۔
قدامت پسند جماعتوں کے دیگر ممکنہ امیدواروں میں بھومی جتھائی پارٹی کے انوٹن چرنویراکل اور یونائیٹڈ تھائی نیشن پارٹی کے پرایوت چان اوچا شامل ہیں۔ پرایوت نے 2014 کی بغاوت کے بعد نو سال تک ملک پر حکمرانی کی تھی، اور اب وہ نجی کونسل کے رکن ہیں، سیاست میں واپسی کے لیے انہیں مستعفی ہونا پڑے گا۔
سب سے مضبوط امیدوار
چولالونگ کورن یونیورسٹی کے پروفیسر تھیتینان پونگسدھیرک کے مطابق، بھومی جتھائی کے انوٹن اس وقت سب سے موزوں امیدوار دکھائی دیتے ہیں، بھومی جتھائی کے ارکانِ پارلیمنٹ فیو تھائی کے مقابلے میں کم ہیں، لیکن انہیں شاہی سرپرستی اور سینیٹ کی حمایت حاصل ہے
قبل از وقت انتخابات؟
اگر نئی حکومت بنانے پر اتفاق نہ ہو سکا تو ممکنہ طور پر ملک میں قبل از وقت انتخابات کروانا پڑیں گے۔ تھیتینان کے مطابق، تاہم، نیا انتخاب بھی تھائی لینڈ کے سیاسی بحران کا حل نہیں ہوگا۔