ایران کے جوہری پروگرام پر پھر سے پابندی، تہران کا شدید ردعمل

فہرستِ مضامین

ایران اسرائیل جنگ کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یورپین ممالک تہران پر نافذ عالمی پابندیوں پر نرمی کا مطالبہ کریں گے تاہم برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر سخت ترین پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

ان تینوں یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔

تینوں ملکوں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ایران اگست کے آخر تک سفارتی حل پر رضامند نہ ہوا، تو وہ پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے “اسنیپ بیک” نامی میکانزم کو متحرک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پابندیاں 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ختم کی گئی تھیں۔

تینوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایران کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل کے بارے میں مطلع کرنے کے بعد اسنیپ بیک طریقہ کار کو متحرک کر دیا ہے۔

ٹریگر میکانزم فعال ہونے کی صورت میں کونسی پابندی عائد ہوں گی؟

دس سال قبل ایران نے برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکہ، روس اور چین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جسے “جامع مشترکہ عملی منصوبہ” یا عام طور پر ایٹمی معاہدہ کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران پر اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں، جبکہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر کچھ پابندیاں ماننے کا وعدہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جولائی 2015 میں اس معاہدے کو منظور کیا، اور یہ منظوری 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہونے والی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کو “پابندیوں کی دوبارہ بحالی” یاSnapback کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اگر پابندیاں دوبارہ بحال کی گئیں تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران پر پہلے سے عائد کی گئی سخت پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی۔ حال ہی میں یورپی ٹرائیکا یعنی فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو اطلاع دی کہ وہ اسنیپ بیک کا عمل فعال کر رہے ہیں۔

تیس دن کی مدت کا مطلب کیا ہے؟

سال2015 کے معاہدے میں “پابندیوں کی دوبارہ بحالی” یا اسنیپ بیک کی شق شامل تھی، جسے اقوام متحدہ ایران کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔ اگر معاہدے کے فریق ایران کی “سنگین غیر تعمیل” کے الزامات حل نہ کر سکیں، تو یہ عمل 15 رکنی سلامتی کونسل میں فعال کیا جا سکتا ہے۔

اب یورپی ٹرائیکا کے بیان کے مطابق، اس عمل کے آغاز کے بعد سلامتی کونسل کو 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف پابندیاں جاری رہیں یا نہ رہیں۔ اس کے لیے کم از کم 9 ووٹ چاہیے اور کسی بھی مستقل رکن کو ویٹو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

لیکن اگر 9 یا زیادہ اراکین پابندیوں کی توسیع یا نرمی کے حق میں ووٹ دیں، تو برطانیہ اور فرانس ویٹو استعمال کر کے اس فیصلے کو روک سکتے ہیں۔ اگر کوئی فیصلہ منظور نہ ہوا تو تمام اقوام متحدہ کی پابندیاں ایران پر واپس عائد ہو جائیں گی، یعنی اسنیپ بیک شروع ہونے کے 30 دن بعد، جو ستمبر کے آخر میں متوقع ہے، یہاں تک کہ سلامتی کونسل کوئی دوسرا اقدام نہ کرے۔

اسنیپ بیک میکانزم سنگین نتائج کا باعث بنے گا: ایران

دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک مرتبہ پھر یورپی ٹرائیکا کو متنبہ کیا ہے کہ کہ اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی کوشش سنگین نتائج کا باعث بنے گی۔

عراقچی نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے یورپی ٹرائیکا نے ایرانی عوام پر دباؤ بڑھانے کا بدنیتی پر مبنی فیصلہ کیا ہے۔ یہ حماقت غیر اخلاقی، بلاجواز اور غیر قانونی ہے جس کے بارے میں ایران پہلے ہی سخت انتباہ دے چکا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی ہے۔ رواں سال ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پانچ دور کے مذاکرات کیے اور چھٹے دور سے قبل ایران کو پہلے اسرائیل اور پھر امریکہ کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اب یورپ کا یہ دعوی کہ ایران مذاکرات سے بھاگ رہا ہے، نہایت ہی گمراہ کن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپ اس طرح کے اقدامات سے باز نہ آئے تو اس کے نہ صرف ایران و مغرب کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کو بھی شدید خطرہ ثابت ہوں گے۔

عراقچی نے کہا کہ بغیر قانونی جواز کے اسنیپ بیک میکانزم کا سہارا لینا نہ صرف سلامتی کونسل کے فیصلوں پر اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ عالمی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ کونسل اور دنیا سب مل کر کہیں: بس بہت ہو گیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں