منگل اور بدھ کی رات ’دریائے سندھ میں سیلاب آنے کا خدشہ ہے‘:حفاظتی انتظام بہتر بنائیں: وزیر اعلیٰ سندھ

فہرستِ مضامین

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیلابی صورتحال کے باعث مقرر کیئے گئے وزرا سے رابطہ کیا ہے،وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب آنے کا خدشہ ہے، دریا کے دائیں اور بائیں کناروں کے بندوں کے نہری نظام کی کڑی نگرانی کی جائے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزراء نے مراد علی شاہ کہ تفصیلی بریفنگ بھی دی ہے، وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ گڈو بیراج  کے مقام پر آج 12 بجے اپ اسٹیم پانی کا بھاو 383299 اور ڈائون اسٹریم 350943 کیوسکس ہے، سکھر بیراج کے مقام پر اپ اسٹریم 313000 اور ڈائون اسٹریم 259050 کیوسکس ہے، کوٹڑی بیراج اپ اسٹریم 264131 اور ڈائون اسٹریم 233216 کیوسکس ہے۔

جام خان شورو نے کہا کہ بیراجز کی صورتحال ابھی تک بہترہے اور تمام حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے اور انتظامیہ فیلڈ میں متحرک  رہے، صوبائی وزرا تمام اقدامات کو سپروائزر کرتے رہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ عوام کی جان اور مال کی حفاظت کے لیئے سندھ حکومت کے وزراء دریا پر موجود ہیں، دریا کے کناروں یا کچے میں رہنے والے لوگوں کو انتظامیہ سے تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

‎شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ رلیف کیمپس قائم ہیں تاہم زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کے لیے بھی 300 کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

‎ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ہر تین گھنٹے بعد صورتحال کے حوالے سے اپڈیٹ فراہم کرتی ہے جبکہ پنجاب حکومت بھی سیلابی صورتحال میں تعاون کے طور پر کٹس فراہم کر رہی ہے۔ پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔

‎سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبے میں نہ پیسوں کی کمی ہے اور نہ ہی اس وقت کوئی ایمرجنسی صورتحال ہے، تاہم حکومت ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

‎انہوں سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں ممکنہ طور پر 16 لاکھ 50 ہزار افراد، 1651 دیہات اور 167 یونین کونسلز متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ دو لاکھ 73 ہزار خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت 192 ریسکیو کشتیاں اور موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کردی گئی ہیں۔

‎ضلعی انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر افراد حسبِ روایت کچے کے علاقوں سے خود ہی نکل جاتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں