حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں حکومتی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں معاہدے کا اعلان کیا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات منظور کرلیے۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کےدرمیان معاملات طے کرنےکےلیے لیگل ایکشن کمیٹی قائم کی گئی ہے، لیگل ایکشن کمیٹی ہر 15 دن بعد بیٹھے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آنا خوش آئند ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا سازشیں اور افواہیں آخرکار دم توڑ گئیں، تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے، حکومت کشمیری بھائیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے معاہدے کو پاکستان، آزاد کشمیر اور جمہوریت کی جیت قرار دیا۔
احسن اقبال نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی پریس کانفرنس سے قبل سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ گزشتہ ہفتوں میں عوامی مسائل کےباعث ایک مشکل صورتِ حال پیدا ہوئی تاہم مقامی اور قومی قیادت کی دانائی اور مکالمے کی روح نے اس بحران کو پر امن انداز میں حل کردیا۔
ا ن کا کہنا تھا کہ نہ تشدد کو ہوا ملی، نہ تقسیم ہوئی، بلکہ باہمی احترام کے ساتھ راستہ نکالا گیا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نےعوام کی آواز کو بلند کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ان آوازوں کو سنجیدگی سے سنا، جب حکومت عوام کی سنتی ہے، عوام تعمیری انداز میں بات کرتے ہیں توحل نکل آتاہے۔
وزیراعظم کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے بھی سوشل میدیا پر جاری پیغام میں کہاکہ ہمارے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کردیے۔
طارق فضل چودھری نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں معاہدے کو امن کی فتح قرار دیا۔ ساتھ ہی واضح کیاکہ مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور تمام سڑکیں بھی کھل گئی ہیں۔