اسلام آباد : ملک میں دریائی پانی کے ضابطے، زرعی و تجارتی استعمال اور نئے ڈیمز و ہائیڈل منصوبوں کی تعمیر کے فیصلے وفاقی سطح پر منتقل کرنے کی ایک نئی تجویز سامنے آگئی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے وکیل اعجاز جیلانی ملک نے وزیرِاعظم کو ایک خط کے ذریعے وفاق کے ماتحت “نیشنل ریور اتھارٹی” کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، جو پانی سے متعلق تمام بڑے فیصلے کرنے کی مجاز ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، وزیرِاعظم آفس نے وکیل کی تجویز پر وزارتِ آبی وسائل سے سفارشات طلب کرلی ہیں، جب کہ وزارت نے ہدایت کے بعد ارسا اور صوبوں سے بھی اپنی تجاویز مانگی ہیں۔
ارسا کے ذرائع کے مطابق، ادارے نے مجوزہ نیشنل ریور اتھارٹی کے قیام کی سخت مخالفت کی ہے۔ ارسا کا مؤقف ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت اور اس سے متعلق شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں آچکے ہیں، لہٰذا مستقبل میں پانی کے منصوبوں کی ترقی اور عمل درآمد صوبوں کی رضامندی سے ہونا چاہیے۔
تجویز میں کہا گیا ہے کہ نئی اتھارٹی میں صوبوں کو نمائندگی دینے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ماہرین کا تعاون بھی شامل کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ارسا کو وفاق کے ماتحت لانے اور وفاقی نمائندے کو مستقل چیئرمین بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جو ناکام ہوگئی تھی۔