پشاور: خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے حلف لینے کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی، اور عدالت نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے لیے گورنر خیبرپختونخوا کی دستیابی معلوم کریں اور کل دوپہر ایک بجے سے قبل عدالت کو رپورٹ پیش کریں۔
حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ درخواست میں سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر ارکان نے آرٹیکل 255 کے تحت استدعا کی ہے کہ سپیکر یا کوئی اور شخص حلف لینے کے لیے نامزد کیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھیجا تھا، جبکہ سہیل آفریدی 13 اکتوبر کو وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بھی مقررہ شیڈول کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔
تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ 12 اکتوبر کو شیڈول جاری ہوا اور تمام امیدواروں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اپوزیشن لیڈر نے الیکشن پر اعتراضات کیے، تاہم سپیکر نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے رولنگ پاس کی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے حلف لینے کے لیے اپنی عدم دستیابی ظاہر کی ہے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق حلف میں تاخیر صوبے کی طرز حکمرانی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آرٹیکل 255(2) کے تحت کارروائی ممکن نہیں کیونکہ گورنر اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں اور وہ 15 اکتوبر کو دستیاب ہوں گے۔