سزا صرف جسم کی قید نہیں ہوتی سوچ کی آزادی ہی اصل نجات ہے، ملیر جیل کی دیواروں کے اندر ایک آرٹ ورکشاپ کی کہانی

فہرستِ مضامین

کہتے ہیں! سزا صرف جسم کی قید نہیں ہوتی سوچ کی آزادی ہی اصل نجات ہے۔

(خوشی اسلام)ملیر ڈسٹرکٹ جیل کراچی میں قیدیوں کے لیے ایک منفرد آرٹ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا
جس کا مقصد سزا کاٹنے والے افراد کو خود اظہار، ہنر اور بحالی کا موقع فراہم کرنا تھا۔

اس ورکشاپ میں قیدیوں کو نہ صرف ڈرائنگ اور پینٹنگ کی بنیادی تکنیک سکھائی گئیں،
بلکہ آرٹ کو ایک باعزت پیشے اور اظہار کے طاقتور ذریعے کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

ملیر ڈسٹرکٹ جیل کے بھاری گیٹوں سے گزرتے ہوئے اکثر دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔ مگر 2022 کے بعد جب دوبارہ اس جیل میں داخل ہوئی، تو اس بار دل حیرت انگیز طور پر پُرسکون تھا۔ کچھ مختلف تھا ، ایک مانوسیت، ایک اپنائیت، جیسے میں کسی ایسے مقام پر آئی ہوں جہاں میرا مقصد میرا انتظار کر رہا ہو۔

جیل کی سخت دیواریں بظاہر انسان کو قید کرتی ہیں، مگر اصل قید اکثر انسان کے ذہن میں ہوتی ہے۔ یہی احساس اس وقت دوبارہ تازہ ہوا جب میں قیدیوں کے لیے اپنی آرٹ ورکشاپ کے دوران ان کے سامنے کھڑی تھی۔ اس بار میرا مقصد صرف رنگوں اور لائنوں کے بارے میں بات کرنا نہیں تھا ۔ بلکہ امید کے رنگ بکھیرنا تھا۔

آرٹ، قید کے اندر روشنی کی ایک کھڑکی

ورکشاپ میں شریک قیدیوں کی آنکھوں میں تجسس اور جھجک دونوں تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ آرٹ صرف ایک شوق نہیں، بلکہ اظہار کا ذریعہ اور باعزت روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں فنکار اپنے کام کو سوشل میڈیا، نمائشوں اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بیچ رہے ہیں۔

میں نے کہا،
“اگر آپ کے اندر جذبہ ہے تو آپ کہیں سے بھی اپنی دنیا بنا سکتے ہیں۔ آرٹ محض کینوس پر نہیں، سوچ کے زاویے بدلنے کا نام ہے۔”

یہ ورکشاپ دراصل ری ہیبیلیٹیشن کے تصور کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اگر کوئی قیدی یہاں سے کوئی ہنر سیکھ کر جائے، تو ممکن ہے وہ رہائی کے بعد جرم کے بجائے ایک مثبت راستہ اختیار کرے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اکثر ایسے لوگوں کو دوسرا موقع دینے سے انکار کر دیتا ہے۔

مجھے کبھی نہیں لگا کہ میرے ہاتھ میں بھی فن ہے

2022 کی ورکشاپ کی ایک یاد آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ ایک قیدی، جو پہلے کسان تھا، نے مجھ سے کہا،
“میں کھیتوں میں پرندوں کو بھگانے کے لیے پتلے بناتا تھا۔ مجھے کبھی نہیں لگا کہ یہ بھی کوئی فن ہے۔”

جب اسے بتایا گیا کہ Scarecrow (پتلا) بھی آرٹ کی ایک شکل ہے، تو اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی ایک ساتھ تھی۔ اس لمحے میں نے محسوس کیا کہ آرٹ ہر انسان کے اندر چھپا ہوتا ہے ۔ بس اسے پہچاننے والی نگاہ چاہیے۔

میڈم! سر کے سائز کو سات بار ناپیں تو پورے جسم کی لمبائی بنتی ہے

ایک اور یادگار واقعہ ورکشاپ کے دوران ہوا جب میں ہیومن پورٹریٹ کے تناسب پر بات کر رہی تھی۔ ایک قیدی فوراً بول اٹھا،
“میڈم! سر کے سائز کو سات بار ناپیں تو پورے جسم کی لمبائی بنتی ہے۔”

یہ سن کر میری مسکراہٹ چھپ نہ سکی۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا یہ شخص بنیادی آرٹ تھیوری سے واقف تھا اور روزانہ ڈرائنگ کی مشق کرتا تھا۔ مجھے لگا کہ اگر دل میں روشنی ہو تو قید کی دیواریں بے معنی ہو جاتی ہیں۔

قید کے رنگ

جیل کے اندر ایک چھوٹی سی آرٹ گیلری بھی ہے، جہاں قیدیوں کے فن پارے آویزاں ہیں۔ کچھ آرٹ ورک کانٹیمپرری آرٹ کے زمرے میں آتے ہیں، تو کہیں سریئلزم کی جھلک نظر آتی ہے۔ ایک پینٹنگ نے مجھے خاص طور پر روک لیا ۔ وقت کو پگھلتی ہوئی گھڑیوں کی شکل میں دکھایا گیا تھا، بالکل سالواڈور ڈالی کے مشہور انداز میں۔

قیدیوں کا کام دیکھ کر میں سوچنے لگی کہ یہ لوگ جو باہر کی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، ان کے اندر تخلیق کا سمندر ابھی بھی موجزن ہے۔

روشنی کبھی قید نہیں ہوتی

جب میں جیل کے دروازے سے باہر نکلی، تو مجھے محسوس ہوا کہ میں وہاں مایوس لوگ نہیں چھوڑ کر آئی بلکہ امید سے بھرے چہرے چھوڑ کر گئی ہوں۔ ایسے لوگ جو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر دوبارہ جینا چاہتے ہیں۔

میرا یقین ہے کہ معاشرہ صرف سزا دینے سے بہتر نہیں بنتا، بلکہ دوسرا موقع دینے سے بہتر ہوتا ہے۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوگا۔ میں دوبارہ جاؤں گی، پھر سکھاؤں گی، پھر امید کے رنگ بانٹوں گی۔

کیونکہ انسانیت کے اس سفر کا کوئی اختتام نہیں ۔
یہ ہر اس دل سے شروع ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے روشنی بننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

ملیر جیل میں ہونے والی آرٹ ورکشاپ نے قیدیوں کو صرف رنگوں سے نہیں جوڑا بلکہ اُن کے اندر کے فنکار کو جگایا۔ اس ورکشاپ کا مقصد صرف مصوری سکھانا نہیں، بلکہ قیدیوں کو معاشرے کا مثبت حصہ بننے کا موقع دینا تھا۔ تاکہ رہائی کے بعد وہ ہنر کے ذریعے نیا آغاز کر سکیں
اور اپنی غلطیوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی تصویر بنا سکیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں