راولپنڈی کی ماہ نور عمر نے سینٹری پیڈز ٹیکس جسے وہ “پیریڈ ٹیکس” کہتی ہیں ختم کرانے کے لیے عدالت پہنچ گئیں

فہرستِ مضامین

راولپنڈی کی 25 سالہ وکیل ماہ نور عمر نے سینٹری پیڈز پر 40 فیصد ٹیکس ختم کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ جس میں حکومت کی پالیسی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

وہ اس ٹیکس کو “پیریڈ ٹیکس” کہتی ہیں۔

پاکستان میں مقامی پیڈز پر 18فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد شدہ پیڈز یا ان کے خام مال پر 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لگتی ہے۔ ماہ نور کا کہنا ہے کہ یہ قوانین خواتین کے برابری، وقار اور سماجی انصاف کے حق کے خلاف ہیں۔

ماہ نور نے بتایا کہ انہیں وہ شرمندگی اور پریشانی آج بھی یاد ہے جو اسے سکول میں محسوس ہوتی تھی جب انہیں ماہواری آتی تھی تو سینیٹری پیڈ کے ساتھ بیت الخلا جانا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی جرم کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ

“میں اپنا پیڈ آستین میں چھپاتی تھی جیسے منشیات لے جا رہی ہوں،”

ماہ نور نے بتایا۔ “اگر کسی نے اس بارے میں بات کی تو اساتذہ مذاق اڑاتے تھے یا بات کرنے سے روکتے تھے۔”

ایک ہم جماعت نے بتایا کہ اس کی ماں پیڈ کو “پیسے کا ضیاع” سمجھتی ہے۔

ماہ نور کہتی ہیں، “تب مجھے احساس ہوا کہ اگر متوسط طبقے کے لوگ ایسا سوچتے ہیں تو باقیوں کے لیے یہ مصنوعات کتنی دور کی بات ہیں۔”

قانونی محاذ پر قدم

پاکستان میں 1990 کے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت مقامی پیڈز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد شدہ پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے۔ یونیسیف کے مطابق، مجموعی طور پر یہ ٹیکس تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔

ماہ نور کی درخواست کے مطابق یہ ٹیکس خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہے اور آئین کے تحت مساوات و سماجی انصاف کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

UNICEF: Tax Reforms on Menstrual Health and Hygiene Products in Pakistan

عام خواتین کی رسائی مشکل

پاکستان میں زیادہ تر خاندانوں میں ماہواری اب بھی ایک ممنوع موضوع ہے۔ سینیٹری پیڈز کے 10 ٹکڑوں کے پیک کی قیمت تقریباً 450 روپے ہے، جو کم آمدنی والے خاندان کے لیے مہنگا خرچ ہے۔

UNICEF اور WaterAid کی رپورٹ کے مطابق، صرف 12 فیصد پاکستانی خواتین تجارتی پیڈ استعمال کرتی ہیں۔ باقی خواتین کپڑے یا دیگر متبادل استعمال کرتی ہیں، جن کے باعث حفظانِ صحت کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

سماجی اثرات

پنجاب کے شہر اٹک سے تعلق رکھنے والی بشریٰ ماہنور نے “ماہواری جسٹس” نامی تنظیم قائم کی، جو خواتین میں آگاہی پھیلا رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں، “میں دس سال کی تھی جب پہلی بار ماہواری ہوئی، مجھے نہیں پتا تھا پیڈ کیسے استعمال کرتے ہیں۔ کوئی سمجھانے والا نہیں تھا۔”

انہوں نے کہا، “کسی نے مجھے پیڈ استعمال کرنے کا طریقہ نہیں بتایا۔ میں نے اسے الٹا لگا دیا۔ بہت تکلیف ہوئی۔ وہ شرم کبھی نہیں جاتی۔”

بشری ماہنور کے مطابق، اسکول میں بھی شرم کا عنصر نمایاں تھا۔ ایک بار ٹیچر نے ایک لڑکی کو دو لیکچرز کے لیے کھڑا کیا کیونکہ اس کی یونیفارم پر داغ لگ گیا تھا۔ ماہنور نے کہا، “شرم کبھی اکیلی نہیں ہوتی، یہ گھر سے شروع ہوتی ہے اور جوانی تک جاری رہتی ہے۔”

2022 کے سیلاب کے دوران، بشریٰ نے خواتین کے لیے پیریڈ کٹس تقسیم کیں جن میں پیڈ، صابن، انڈرویئر اور درد کش ادویات شامل تھیں۔

ان کے بقول، “جب آپ لفظ ‘ماہواری’ بلند آواز میں بولتے ہیں تو آپ سکھاتے ہیں کہ یہ شرمناک نہیں، صرف زندگی کا حصہ ہے۔”

2023 کی ایک تحقیق کے مطابق، آٹھ میں سے آٹھ لڑکیاں حیض کے بارے میں بات کرنے میں شرمندہ محسوس کرتی ہیں، اور دو تہائی لڑکیاں صرف حیض شروع ہونے کے بعد اس کے بارے میں سیکھتی ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے ناکافی حفظان صحت، اسکول میں غیر حاضری، اور سماجی بدنامی پیدا ہوتی ہے۔

Experiences, awareness, perceptions and attitudes of women and girls towards menstrual hygiene management and safe menstrual products in Pakistan

معاشی رکاوٹیں

دستک فاؤنڈیشن کی بانی حرا امجد کے مطابق، “زیادہ تر گھروں میں مرد مالی فیصلے کرتے ہیں۔ جب پیڈ مہنگے ہوں تو خواتین کے لیے ان پر خرچ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔”

ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان میں آدھی سے زیادہ خواتین سینیٹری پیڈ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ اگر ٹیکس ختم ہو جائے تو اسکولوں میں لڑکیوں کی حاضری میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

قانونی جدوجہد

ماہ نور کے لیے یہ مقدمہ صرف قانونی چیلنج نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک بیان ہے۔

“یہ میں بمقابلہ حکومت نہیں، بلکہ خواتین بمقابلہ پاکستان ہے۔”

ان کی جدوجہد حیضی مساوات کے لیے بڑھتی ہوئی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے، تاکہ خواتین کی صحت کی ضروریات کو بنیادی حق سمجھا جائے، نہ کہ عیش و آرام کی چیز۔

ماہ نور عمر کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد اسکول کے زمانے سے شروع ہوئی۔ 16 سال کی عمر میں انہوں نے اسلام آباد کے غریب علاقوں میں خواتین کے لیے “ڈیگنیٹی کٹس” تیار کرنا شروع کیں۔

اب وہ لندن اسکول آف اکنامکس میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور سپریم کورٹ میں بطور لاء کلرک کام کر رہی ہیں۔ ان کے وکیل احسن جہانگیر خان کے مطابق، “یہ صرف ٹیکس کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف کا سوال ہے۔ یہ حیاتیاتی فعل پر ٹیکس ہے۔”

عالمی مثالیں

بھارت، نیپال اور برطانیہ پہلے ہی اپنے “پیریڈ ٹیکس” ختم کر چکے ہیں۔ بھارت میں یہ فیصلہ کارکنوں کی کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد کیا گیا تھا۔

سچی سہیلی تنظیم کی بانی سربھی سنگھ کے مطابق، “یہ قدم خواتین کو تعلیم اور روزگار میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری تھا۔”

یہ انصاف کا احساس ہے

ماہ نور کے والدین ابتدا میں ان کی عدالت میں جانے سے ہچکچاتے تھے، مگر اب وہ ان پر فخر کرتے ہیں۔

ماہ نو کہتی ہیں،

“میرے لیے یہ کیس صرف قانونی نہیں بلکہ وقار اور انصاف کی لڑائی ہے۔ جب میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں، تو عدالت نہیں بلکہ انصاف کا احساس ذہن میں آتا ہے۔”

اختتامیہ

پاکستان میں ماہواری کی مصنوعات پر ٹیکس خواتین کے لیے معاشی اور سماجی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ماہنور عمر اور دیگر کارکنان کی کوشش ہے کہ یہ ٹیکس ختم ہو تاکہ خواتین کی صحت، وقار اور برابری کے حق کو تسلیم کیا جا سکے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں