یورپ بھر میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھےکر دی گئیں،موسم گرما کا وقت ختم،سردیوں کی آمد کا آغاز ہ ہو گیا

فہرستِ مضامین

یورپ میں دن کی روشنی کے وقت کے اختتام کے سلسلے میں اتوار کی صبح متعدد ممالک میں گھڑیاں رات 3 بجے ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئیں۔

اس تبدیلی کے بعد دن کے اوقات نسبتاً چھوٹے ہو جائیں گے اور شامیں جلد اندھیری ہونے لگیں گی۔

گھڑیاں پیچھے کرنے کا مقصد

یورپ میں گھڑیاں بدلنے کے اس نظام کو ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کہا جاتا ہے جس کا مقصد قدرتی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا اور توانائی کی بچت کرنا ہے۔

موسمِ گرما میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں تاکہ شام کے وقت روشنی زیادہ دیر تک برقرار رہے، جبکہ موسمِ سرما میں دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں اس لیے گھڑیاں دوبارہ پیچھے کر دی جاتی ہیں تاکہ صبح کے وقت روشنی بہتر طور پر استعمال ہو سکے۔

گھڑیاں پیچھے کرنے کی روایت

یہ طریقہ پہلی بار پہلی عالمی جنگ کے دوران توانائی بچانے کے لیے اپنایا گیا تھا اور بعد ازاں زیادہ تر یورپی ممالک نے اسے معمول کا حصہ بنا لیا۔ یورپی یونین میں گزشتہ چند برسوں سے اس نظام کو ختم کرنے یا برقرار رکھنے کے بارے میں بحث جاری ہے۔

یورپی یونین نے 2018 میں تجویز دی تھی کہ ہر ملک مستقل طور پر یا تو گرمیوں کا وقت رکھے یا سردیوں کا، لیکن رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ ڈچ حکومت کے مطابق دن کی روشنی کے نظام کو ختم کرنے کے فوائد اور نقصانات پر مکمل وضاحت موجود نہیں، اور یورپی کمیشن کے جامع جائزے کے بعد ہی حتمی فیصلہ ممکن ہے۔

موبائل اور لیپ ٹاپ میں وقت خود تبدیل ہوتا ہے

برطانوی میڈیا کے مطابق ونٹر ٹائم اگلے سال 29 مارچ تک جاری رہے گا اور 29 مارچ کو برطانیہ کامعیاری وقت دوبارہ بحال ہوگا۔

میڈیا کے مطابق لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون میں وقت خود ہی درست ہو جاتا ہے لیکن کار میں لگی گھڑیوں کو خود درست کرنا پڑتا ہے، اس طرح دیگر گھڑیوں کو بھی خود ایک گھنٹہ پیچھے کرنا پڑتا ہے۔

وقت کی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان وقت کا فرق چار گھنٹے سے بڑھ کر پانچ گھنٹے ہو جاتاہے جو کہ انتیس مارچ سے دوبارہ چار گھنٹے ہو جاتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں