ٹک ٹاک کا جنون نے ایک اور جان لے لی۔ کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر، پہلوان گوٹھ میں ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے 22 سالہ نوبیاہتا خاتون فرزانہ شوہر کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئی۔
کراچی: جمعہ کے روز پاکستان اسٹور کے قریب گھر میں فائرنگ سے زخمی ہونے والی فرزانہ ہفتے کو جناح اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش کو ضروری کارروائی کے بعد چھیپا سردخانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او گلستان جوہر انسپکٹر کاشف ربانی کے مطابق، مقتولہ کے شوہر غلام مصطفیٰ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے قبضے سے غیر لائسنس یافتہ نائن ایم ایم پستول برآمد کیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، غلام مصطفیٰ رنگ سازی کا کام کرتا ہے اور دونوں کا نکاح رواں سال ستمبر میں ہوا تھا جبکہ رخصتی ابھی باقی تھی۔
پولیس کے مطابق فرزانہ حال ہی میں اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کندھ کوٹ سے کراچی آئی تھی۔ وہ ٹک ٹاک ویڈیوز بناتی تھی، اور واقعے کے روز شوہر کے ساتھ ویڈیو بنا رہی تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق، شوہر کے ہاتھ میں پستول تھا۔ فرزانہ نے شوہر سے پوچھا کہ “اس میں گولی تو نہیں؟” جس پر شوہر نے کہا “نہیں۔” اس کے بعد فرزانہ نے پستول کی نالی اپنی کنپٹی پر رکھی اور کہا “ٹریگر دبا دینا” — جیسے ہی شوہر نے ٹریگر دبایا، پستول چل گیا اور گولی سر میں جا لگی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع مقتولہ کی والدہ کو دے دی گئی ہے، جو کندھ کوٹ سے کراچی روانہ ہو چکی ہیں۔ ان کے بیان کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔