سندھ حکومت نے کراچی میں ایک نیا ای-چالان سسٹم متعارف کرایا ہے جس کا مقصد شہر کے ٹریفک کو بہتر بنانا اور ٹریفک پولیس کے عوام سے براہِ راست تعامل کو کم کرنا ہے۔ نئے سسٹم کے تحت، جو حال ہی میں شروع کیا گیا ہے، ٹریفک پولیس کے مطابق تین روز میں مجموعی طور پر 12 ہزار 942 ای چالان کیے جاچکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ای چالاننگ سسٹم اب باقاعدہ طور پر فعال ہے، جس کا مقصد صرف جرمانہ کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کا عادی بنانا ہے۔
سسٹم کی تفصیل اور کیمروں کا نیٹ ورک
کراچی ٹریفک پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کشف کے مطابق یہ سسٹم کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں مرکزی سڑکوں پر کل 1,076 کیمرے نصب کیے گئے ہیں، اور پروجیکٹ کے اگلے مراحل میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 12,000 کیمرے تک پہنچ جائے گی جو شہر کے تمام علاقوں اور ٹول پلازوں پر لگائے جائیں گے۔ ایک چالان شروع ہونے کے بعد، یہ سندھ ایکسائز اور ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعہ نمبر پلیٹ سے منسلک پتہ پر پاکستان پوسٹ کے ذریعے بھیج دیا جائے گا۔ چالان کی ادائیگی کے لیے کل مدت 21 دن ہے، تاہم اگر 14 دن کے اندر ادا کیا جائے تو جرمانے کی رقم میں 50 فیصد رعایت ملتی ہے، اور 21 دن کے بعد ادا نہ کرنے پر 22ویں دن جرمانہ دوگنا ہو جائے گا۔
اپیل کا طریقہ
ٹکٹ جاری ہونے کے چوبیس گھنٹے کے اندر، شہری ہیلپ لائن 1915 یا قریبی سہولت سینٹر کا دورہ کر کے اپنے تحفظات افسر کے سامنے رکھ سکتے ہیں
اگر کسی شہری کو لگتا ہے کہ اس پر غلط چالان لگایا گیا ہے تو اپیل دائر کرنے کا بھی نظام موجود ہے۔ شہر کے 11 پولیس اسٹیشنز میں اپیل ڈیسک قائم کیے گئے ہیں جہاں شہری شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ شکایت کے بعد ایک ٹوکن جاری کیا جاتا ہے اور تین رکنی کمیٹی اپیل کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ کمیٹی ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ایک سینئر پولیس افسر، اور ایک سی پی ایل سی (CPLC) کے افسر پر مشتمل ہوتی ہے۔ اپیل کی پراسیسنگ 3 سے 4 دن میں مکمل ہوتی ہے اور اس دوران 21 دن کی ادائیگی کی مدت معطل رہتی ہے۔
ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق کسی بھی گاڑی کی خلاف ورزی جب کیمروں میں ریکارڈ ہوگی، تو شواہد کے ساتھ ایک ای-ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد شہری کے پاس چیلنج کرنے کے لیے 10 دن کی مدت ہوگی۔
چالان نہ ادا کرنے کے نتائج
چالان نہ ادا کرنے کی صورت میں تین ماہ میں لائسنس معطل ہو سکتا ہے، اور چھ ماہ تک ادائیگی نہ ہونے پر NADRA کو اطلاع دی جاتی ہے اور CNIC بلاک بھی ہو سکتا ہے۔ ای-چالان میں ڈیمیرٹ پوائنٹس سسٹم بھی شامل ہے، جہاں ہر خلاف ورزی کے ساتھ پوائنٹ جمع ہوتا ہے، اور ایک سال میں 30 پوائنٹس پر ڈرائیونگ لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم فی الحال سندھ میں رجسٹرڈ گاڑیوں کے لیے ہے، لیکن دیگر صوبوں کی گاڑیوں کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
موبائل ایپ کے ذریعے چالان کی نگرانی
شہری موبائل ایپ “Trax4Citizens” کے ذریعے بھی اپنے چالان دیکھ سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کے لیے CNIC، موبائل نمبر اور ای میل درج کرنا ہوتا ہے، اور ایپ میں CNIC کے تحت تمام گاڑیوں کی تفصیل، خلاف ورزیوں اور وارننگز نظر آتی ہیں۔ ایپ نہ صرف چالان کی صورتحال دیکھنے میں مددگار ہے بلکہ شہریوں کو اپنی ڈرائیونگ کی عادات بہتر بنانے اور مستقبل میں خلاف ورزیوں سے بچنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ ڈی آئی جی شاہ کے مطابق عوامی تعاون سے یہ سسٹم مزید بہتر ہوگا، اور شہریوں کو چاہیے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں تاکہ شہر میں ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہو اور حادثات کم ہوں۔