ہیینکن کانگو بحران نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، کیونکہ مشرقی جمہوریہ کانگو کے شورش زدہ علاقوں میں مسلح باغیوں نے گوما اور بکاؤ میں ڈچ کمپنی ہیینکن کی تنصیبات پر قبضہ کر لیا ہے۔
کمپنی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ 12 جون 2025 سے ان اہم مقامات پر اس کا آپریشنل کنٹرول مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور تمام عملے کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر نکال لیا گیا ہے۔
مارچ 2025 میں، ہیینکن نے گوما، بکاؤ اور اوویرا میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جب ان کی فیکٹریاں اور ڈپو فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کی زد میں آئے تھے۔ تاہم، اب صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے اور باغیوں نے براہ راست فیکٹریوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ہیینکن کے بیان میں کہا گیا:
“ذمہ دارانہ اور محفوظ طریقے سے کام کرنے کے لیے درکار حالات اب موجود نہیں ہیں… اور ہم اپنا آپریشنل کنٹرول کھو چکے ہیں۔”
کمپنی کی مقامی شاخ برالیمہ ملک کے ان علاقوں میں بدستور کام کر رہی ہے جو اس شورش سے متاثر نہیں ہیں۔ کمپنی نے زور دیا ہے کہ اس کی اولین ترجیح اپنے ملازمین کی سلامتی اور فلاح و بہبود ہے۔ متاثرہ علاقوں سے نکالے گئے تمام ملازمین کو مالی امداد دی جا رہی ہے۔
ہیینکن کانگو بحران کا اثر مقامی معیشت پر بھی پڑا ہے۔ صرف بکاؤ میں ہی کمپنی نے تقریباً 1,000 افراد کو براہ راست اور بالواسطہ طور پر روزگار فراہم کیا تھا۔ گوما، بکاؤ اور اوویرا کی تنصیبات کمپنی کے کانگو میں مجموعی کاروبار کا ایک تہائی حصہ سمجھی جاتی تھیں۔
یہ بحران مشرقی کانگو میں ایم 23 باغی گروپ کی پیش قدمی کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگو کی حکومت کا کہنا ہے کہ روانڈا ایم 23 کو ہتھیار اور فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، جبکہ روانڈا ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
اس دوران ایک امید کی کرن بھی نظر آئی ہے، کیونکہ کانگو، روانڈا اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے تکنیکی وفود نے امن معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے، جس پر آئندہ ہفتے دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
کانگو، جس کی آبادی 10 کروڑ سے زیادہ ہے، ہیینکن کی افریقی مارکیٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ کمپنی کی عالمی آمدنی کا تقریباً 14 فیصد مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے حاصل ہوتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بحران بین الاقوامی سطح پر