تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں مندروں کے تنازعے پر لڑائی

فہرستِ مضامین

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی معاملات پر جنگ چھڑ گئی ہے اور تھائی لینڈ اس معاملے پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے مطابق سرحدی تنازعے کے دوران اب تک کم از کم 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 تھائی لینڈ میں ہلاکتوں کی تعداد انیس ہے، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ دو دن قبل بھڑکا تھا، دونوں فریق ایک دوسرے پر فائرنگ کا الزام عائد کر رہے ہیں ۔

کمبوڈیا اور تھائی لینڈ ایک صدی سے  بھی زائد عرصے سے سرحد پر جھگڑ رہے ہیں۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا دونوں ہی سرحد پر واقع مندروں کے حق ملکیت پر اپنا دعویٰ کر رہے  ہیں۔

دونوں ممالک میں جاری تنازعے کے باعث اب تک ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں یا انہیں جبری طور پر نکالا گیا ہے۔

تھائی حکام کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ میں 58,000 سے زیادہ افراد چار متاثرہ سرحدی صوبوں میں عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ کمبوڈیا میں، انخلاء کی تعداد 23,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ رات نیویارک میں بند کمرے میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ جس میں ملائیشیا نے، ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئےکشیدگی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

کمبوڈیا نے پہلے ملائیشیا کی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، تھائی لینڈ کا موقف پوری طرح واضح نہیں ہے۔

تھائی وزارت خارجہ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ وہ اصولی طور پر اس منصوبے سے متفق ہے اور حکومت اس پر غور کرے گی۔ تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی “زمینی صورتحال کے مطابق” ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ میں کمبوڈیا کے سفیر نے ملاقات کے بعد کہا کہ کمبوڈیا نے “غیر مشروط” فوری جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے پرامن حل کا بھی مطالبہ کیا۔

جنگ بندی کی تجویز

دونوں ممالک ایک دوسرے پر تنازع کی شروعات کا الزام لگا رہے ہیں ۔ تھائی حکومت نے کمبوڈیا پر شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ کمبوڈیا نے تھائی فوج پر کلسٹر بم کے استعمال کی سخت مذمت کی ہے، جو عالمی سطح پر متنازع اور ممنوعہ ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیرِاعظم پھمتھم ویچایچائی نے کہا کہ کمبوڈیا نے متعدد محاذوں پر حملے کیے ہیں اور صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ یہ جنگ میں بدل سکتی ہے، کیونکہ اب جھڑپوں میں بھاری ہتھیار بھی استعمال ہورہے ہیں۔

کمبوڈین وزیرِ اعظم ہن منیت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ملائشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی تجویز کردہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس میں تھائی رہنما کی بھی رضامندی شامل تھی، مگر تھائی حکومت نے ایک گھنٹے کے اندر اپنی پوزیشن تبدیل کرلی۔

امریکہ، ملائشیا اور چین کی ثالثی کی پیشکشوں کے باوجود تھائی لینڈ نے دوطرفہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔

تھائی لینڈ کا وحشیانہ اقدامات کا الزام

تھائی فوج نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے اسکولوں اور ہسپتالوں سمیت مختلف علاقوں پر توپخانے اور روسی ساختہ BM-21 راکٹس سے حملے کیے، جو شہریوں کی جانوں کو

 خطرے میں ڈالنے والے ظالمانہ اقدام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم  ہے اور ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہیے۔

فوج نے کہا کہ یہ ظالمانہ کارروائیاں بے گناہ شہریوں کی جانوں کے ضیاع اور زخمیوں کا سبب بنی ہیں۔

قدیم مندر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات

یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل 11ویں صدی کے پریہ ویہر مندر کو بھی اس جھڑپ میں واضح نقصان پہنچا ہے، جس پر دونوں ممالک نے صدیوں سے دعویٰ کیا ہے۔ تھائی فوج نے اس الزام کو حقائق کی تحریف قرار دیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب تھائی لینڈ نے پنوم پین سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور کمبوڈیا کے سفیر کو نکال دیا، بعد ازاں تھائی فوجی کو بارودی سرنگ سے زخمی ہونے کا واقعہ پیش آیا جس پر دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں