ہمیں ڈرا نہیں سکتے، احتجاج کا حق کوئی نہیں چھین سکتا: سہیل آفریدی

فہرستِ مضامین

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے انتشاری سیاست کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے تمام آئینی اور سیاسی راستے اختیار کیے، تاہم شنوائی نہ ہونے پر لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران پی ٹی آئی نے کوئی لانگ مارچ یا بڑا احتجاج نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے لوگ نہیں بلکہ عوامی اور جمہوری سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب سے وہ وزیراعلیٰ بنے ہیں، انہوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا، لیکن اب پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی بھی ان سے احتجاج کا آئینی حق نہیں چھین سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے انہیں ڈرایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز عمران خان کی تینوں بہنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کے لیے تمام آئینی اور جمہوری راستے اختیار کیے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، حتیٰ کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات نہیں ہو رہی۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ 26 نومبر 2024 کے بعد سے پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف مبینہ طور پر جبر کا سلسلہ جاری ہے اور متعدد بے گناہ کارکنوں کو شہید کیا گیا۔

اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کریں گے: بیرسٹر گوہر

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی اسلام آباد پر چڑھائی کرنے نہیں جا رہی اور قانون و امن و امان کو ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انہیں دہشتگردوں کی طرح برتاؤ کرنے کی بات کرتی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ دہشتگرد ہیں؟ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو احتجاج کے لیے اکسایا جا رہا ہے، لیکن کارکن دہشتگردوں کے انداز میں اسلام آباد نہیں آئیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جب پارٹی اسلام آباد پہنچے گی تو ہر طرف پاکستان کے پرچم ہوں گے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھائے گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل نہیں ہوگا تو وہ اپنے مطالبات کے لیے اور کیا راستہ اختیار کریں؟

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں