سہیل آفریدی کچھ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ

فہرستِ مضامین

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت انسداد دہشتگردی کے لیے وسائل کی کمی کا مؤقف اختیار کرتی ہے، جبکہ اصل مسئلہ فنڈز کا نہیں بلکہ نیت کا ہے۔

کوہاٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ امن و امان اور ترقیاتی کاموں کے لیے مختص فنڈز کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے من پسند افراد کو ٹھیکے دیے اور صوبے میں ہونے والی مائننگ کے ٹھیکوں سے متعلق بھی سوالات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں گزشتہ ساڑھے 12 سال کی حکمرانی کا حساب دینا ہوگا۔

عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صوبے کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔

وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ کوہاٹ کے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مختصر وقت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آئے اور واپس چلے گئے، جبکہ ان کے پاس سیاسی سرگرمیوں کے لیے وقت ہے لیکن صوبے کے عوام کے لیے نہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کسی کو اسلام آباد کی جانب پیش قدمی یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج ماضی میں بھی پرامن نہیں رہے اور ان کے دوران توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کے واقعات پیش آئے۔

بات چیت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے متعدد مرتبہ مذاکرات کی کوشش کی اور وزیراعظم نے بھی چھ مرتبہ بات چیت کی پیشکش کی، تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ احتجاج کے باعث تاجروں، کسانوں اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑے۔

اس سے قبل عطا تارڑ نے کوہاٹ دھماکے میں شہید اہلکار کے والد سے ملاقات کی اور اسپتال میں زیر علاج زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں فضا سوگوار ہے اور پاک فوج و پولیس کے اہلکاروں نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں