’پہلے خاندان میں طلاق ہوجاتی تو سوگ مناتے تھے‘ صبا فیصل

فہرستِ مضامین

پاکستان کی سینئر اداکارہ صبا فیصل ایک پروگرام میں طلاق کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صبا فیصل نے کہا کہ ماضی میں خاندان میں کسی خاتون کی طلاق ہوجاتی تھی تو لوگ اسے ایک بڑا صدمہ سمجھتے تھے اور کئی ماہ تک سوگ کی کیفیت رہتی تھی۔

اداکارہ کے مطابق ماضی میں طلاق یافتہ بیٹی کے والد بھی لوگوں کا سامنا کرنے سے گریز کرتے تھے اور انہیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ معاشرتی رویوں میں تبدیلی آئی ہے اور اب طلاق کو پہلے کی نسبت زیادہ معمول کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔

صبا فیصل کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں طلاق کے واقعات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بعض خواتین کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ خواتین اپنی دوستوں کو بتاتی ہیں کہ ان کی طلاق کو کئی ماہ گزر چکے ہیں اور وہ ذہنی سکون کے لیے بیرونِ ملک سے واپس آئی ہیں۔

اداکارہ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں طلاق کے حوالے سے رویوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔

صبا فیصل کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف سے اتفاق کیا جبکہ دیگر نے طلاق کے معاملے کو سماجی دباؤ اور خاندان کی عزت سے جوڑنے کے انداز پر تنقید کی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں