ایرانی صدر کا دوٹوک جواب، امریکا کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار

فہرستِ مضامین

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، جبکہ ان کے بقول ایرانی عوام خود دہشت گردی اور حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران نے کسی پر حملہ نہیں کیا بلکہ اپنے دفاع میں کارروائی کی۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں عام شہری، خواتین اور بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

ایرانی صدر نے اپنی تقریر کے دوران مقتول ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای اور حملوں میں ہلاک ہونے والے اسکول کے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔

مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے دوران عالمی قوانین اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، شہری آبادی کو نہیں۔

انہوں نے امریکا پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی کی اجازت کا محتاج نہیں۔

ایرانی صدر نے غزہ کی صورتحال کو بھی عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔

جوہری پروگرام کے حوالے سے مسعود پزشکیان نے کہا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال ایران کا حق ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے ایران کے بارے میں ’’دوہرے معیار‘‘ کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں سکیورٹی کے لیے مشترکہ تعاون چاہتا ہے۔

ادھر ایرانی صدر کی تقریر کے دوران امریکی نمائندہ اجلاس سے واک آؤٹ کرگیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے رابطے بھی جاری ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں