بلوچستان حکومت نے میانی ہور کو محفوظ آبی علاقہ قرار دے دیا ہے، ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کی تعریف کی ہے۔
بلوچستان کابینہ نے منگل کے دن انتیس جولائی کو اپنے اجلاس میں صوبے کی ساحلی پٹی کے علاقے میانی ہور کو محفوظ علاقہ قرار دینے والے اقدام کی منظوری دی۔ بلوچستان سمیت پاکستان میں محفوظ آبی علاقہ قرار دیا جانے والا یہ تیسرا علاقہ ہے۔
حکومت بلوچستان اس سے پہلے 2017 میں جزیرہ استولا اور 2024 میں چورنا جزیرے کو میرین پروٹیکٹڈ ایریا ڈکلیئر کر چکی ہے۔
مینگرووز کے جنگلات، متنوع آبی و جنگلی حیات کا مسکن
کراچی سے مغرب کی سمت نوے کلومیٹرز کے فاصلے پر موجود میانی ہور پاکستانی ساحلوں پر موجود ان چند مقامات میں شامل ہے، جہاں مینگرووز کے جنگلات پروان چڑھ رہے ہیں اور یہ وہ واحد مقام ہے،جہاں تین اقسام کے مینگرووز بھرپور انداز میں ملتے ہیں۔
اسے ماہی گیری کا اہم میدان بھی سمجھا جاتا ہے،جہاں ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے، اور ان کا ذریعہ معاش ماہی گیری اور اس کی ذیلی صنعتوں پر منحصر ہے۔

ضلع لسبیلہ میں واقع میانی ہور ایک جھیل ہے جو اپنی متنوع آبی حیات کے لیے مشہور علاقوں میں سے ایک ہے۔یہاں وندر تاتیان نامی دو عارضی ندیاں بہتی ہیں، تاہم یہ جھیل اپنے مسکن سمندر جیسے تیز بہائو کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔
میانی ہور میں پائے جانے والے پرندوں کی مختلف اقسام کی وجہ سے، اسے مئی 2001 میں رامسر سائٹ قرار دیا گیا تھا۔ یہ ٹائیٹل بین الاقوامی اہمیت کی حامل گیلی زمین کے طور پر اس کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
میانی ہور میں وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے مینگرووز کے باعث حکومت بلوچستان نے ستمبر 2022 میں اسے ایک پروٹیکٹڈ فاریسٹ بھی قرار دیا تھا۔
میانی ہور کے سمندری ماحولیاتی نظام اور متنوع جنگلی حیات کو بے قابو ماہی گیری، پرندوں کے شکار اور موسمیاتی تبدیلیوں سمیت کئی عوامل کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔
دیگر حکومتیں بھی بلوچستان کے نقش قدم پر چلیں: ڈبلیو ڈبلیو ایف
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا ماننا ہےکہ میانی ہور کومحفوظ آبی علاقہ قرار دینے کا اعلان علاقے کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اس ضمن میں بلوچستان حکومت کی کاوشوں کو قابل تعریف قرار دیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز نے وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بھی حکومت بلوچستان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان میں مزید محفوظ آبی علاقوں کا اعلان کریں۔
رب نواز نے مزید کہا کہ مختلف انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہم اپنے سمندری وسائل کھو رہے ہیں۔ ایسے اقدام سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے سمندری حیات کا تحفظ بھی یقینی بنائیں گے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائیزر محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ میانی ہور میں مچھلیوں کی 200 اقسام، پرندوں کی 90 اقسام اور ڈولفن کی 3 اقسام موجود ہیں۔

یہ ہجرت کرنے والے اور رہائشی دونوں قسم کے پرندوں کا ایک اہم مسکن ہے۔
میانی ہور میں پرندوں کی ہجرت کرنے والی پرجاتیوں عظیم سفید پیلیکن، ڈمیٹین پیلیکن، گریٹر فلیمنگو، ڈیموسیل اور کامن کرینز کے علاوہ گریٹ ایگریٹ، گریٹ بلیک ہیڈڈ گل، شکرا، مصری گدھ، آسپری اور پیریگرین فالکن پرندوں کی اہم انواع بھی پائی جاتی ہیں۔
میانی ہور میں ماہی گیری کے علاوہ ماحولیاتی سیاحت بھی مقبول ہو رہی ہے۔ اب بڑی تعداد میں لوگ ڈولفن کو دیکھنے، پکنک منانے، ریت کے ٹیلے گھومنے، پرندوں کو دیکھنے اور اسپورٹ فشنگ کے لیے بھی میانی ہور کا رخ کر رہے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے بیس سال قبل اس علاقے میں ماحولیاتی سیاحت کی جن سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا، وہ اب ساحلی علاقوں میں بسنے والی کمیونٹیز کے لیے آمدنی کے متبادل ذرائع بن چکی ہیں۔
محمد معظم خان کا ماننا ہے کہ میانی ہور کو محفوظ آبی علاقہ قرار دینے سے علاقے میں ماحولیاتی سیاحت کو مزید فروغ ملے گا اور اس سے میانی ہور کے آس پاس رہنے والی ساحلی برادریوں کی سماجی اور اقتصادی حالت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔