پولیس ایکٹ پر وفاق اور کے پی آمنے سامنے، سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے ابھی ایکٹ کی منظوری دی ہے، صوبائی حکومت کو اس معاملے پر نظرثانی کرنی چاہیے، جبکہ وفاق کے پاس قانون کے خلاف کارروائی کے لیے متعدد قانونی راستے موجود ہیں۔

طلال چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ قانون سے پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر اور آئی جی کے اختیارات میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیوں سے متعلق اختیارات صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کے دائرہ اختیار میں آنے سے پولیس کے موجودہ کمانڈ نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آتا ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اختیارات کو صوبائی حکومت اور اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ ان کے بقول انسداد دہشت گردی محکمہ اب بھی کرائے کی عمارتوں میں کام کر رہا ہے۔

طلال چوہدری نے اسلام آباد میں راستوں کی بندش سے متعلق کہا کہ دارالحکومت آنے والے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو پولیس ایکٹ 2026 کے ترمیم شدہ مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے پالیسی، انتظامی، آپریشنل اور مالی معاملات میں صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مسودے کے مطابق آئی جی کی تعیناتی اور بعض اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں سے متعلق اختیارات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔

کابینہ سے منظوری کے بعد مسودہ مزید قانون سازی کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ .

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں