وزیراعلیٰ اور مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: بیرسٹر گوہر

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیراعلانیہ گورنر راج کی صورتحال ہے، جسے ختم ہونا چاہیے اور صوبے کے عوام، ان کے مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام کیا جانا چاہیے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنا سیاسی پروگرام پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے وزیراعلیٰ ہیں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان پر اعتماد ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کو پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ بدستور وزیراعلیٰ رہیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ حالات میں، جب پی ٹی آئی لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے بجائے ان کی بات سنی اور شکایات کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن ہے اور اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ ان کے بقول پارٹی نے متعدد مواقع پر اپنی بات حکام تک پہنچائی، تاہم اسے شنوائی نہیں ملی۔

مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے کسی چار رکنی مذاکراتی کمیٹی کا اعلان نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات کے معاملے میں اپنی حکمت عملی کے مطابق کردار ادا کر سکتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت پُرامن تھی، پُرامن ہے اور پُرامن رہے گی، نہ اداروں پر حملہ کرے گی اور نہ ہی اسلام آباد پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق ایسا تاثر پیدا نہ کرے کہ سیاسی کارکن ریاستی اداروں یا اسلام آباد کو نشانہ بنائیں گے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق کسی بڑی سیاسی جماعت کو سیاسی عمل سے باہر کرنے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جا سکتا ہے اور موجودہ کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جانا چاہیے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں