محبوبہ کو جائیداد ملنے کا ڈر بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل

فہرستِ مضامین

بھارتی ریاست اترپردیش میں 60 سالہ فارما کاروباری ونیت منوچا کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، جن کی گلا کٹی لاش 5 ستمبر کو کانپور کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتول کے بیٹے سُبرت نے مبینہ طور پر والد کو اس خدشے کے پیش نظر قتل کروایا کہ وہ کسی دوسری خاتون کے ساتھ رہائش اختیار کرکے اپنی جائیداد اس کے نام منتقل نہ کردیں۔

پولیس کے مطابق واردات کے وقت ونیت منوچا فلیٹ میں اکیلے تھے جبکہ ان کا بیٹا سُبرت اپنی اہلیہ شالو کے ہمراہ ایک تقریب میں موجود تھا۔

ابتدائی تفتیش میں پولیس نے شالو کو مبینہ طور پر مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے مقتول کے سابق ملازم وشال اور اس کے ساتھی کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد کی تحقیقات میں کیس کا رخ تبدیل ہوگیا۔

پولیس کے مطابق قتل کے مبینہ منصوبہ ساز نے نئی سم کے ذریعے سُبرت سے 6 مرتبہ رابطہ کیا، جس کے بعد پولیس نے 23 ستمبر کو سُبرت کو بھی گرفتار کرلیا۔

تفتیش کے دوران سُبرت نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے والد کے متعدد خواتین سے تعلقات تھے اور اسے خدشہ تھا کہ والد کسی دوسری خاتون کے ساتھ رہنا شروع کرکے اپنی جائیداد اس کے نام منتقل کردیں گے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی منصوبہ قتل کو حادثاتی یا طبعی موت کا رنگ دینا تھا، تاہم بعد میں منصوبہ تبدیل کرکے قتل کا فیصلہ کیا گیا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ونیت اپنے بیٹے کو ہر ماہ تقریباً 40 ہزار بھارتی روپے اخراجات کے لیے دیتے تھے۔ پولیس کو سُبرت اور سابق ملازم وشال کے درمیان حذف شدہ پیغامات بھی ملے جبکہ قتل سے قبل متعدد مواقع پر دونوں کی موجودگی ایک ہی مقامات پر پائی گئی۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے قتل کا الزام سُبرت کی اہلیہ شالو پر ڈالنے کی بھی مبینہ کوشش کی۔ سابق ملازم وشال نے پولیس کو دعویٰ کیا کہ سُبرت نے اسے اپنے والد کو قتل کرنے کے لیے کہا تھا اور اس کے بدلے 6 لاکھ بھارتی روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔

وشال نے مبینہ طور پر یہ بھی بتایا کہ سُبرت نے اسے ہدایت دی تھی کہ اگر گرفتاری ہو تو اپنی اہلیہ شالو کو مرکزی ملزم قرار دیا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی بہو شالو کو تاحال مکمل طور پر بے قصور قرار نہیں دیا گیا، جبکہ کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں