ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور وسیع تر معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ قطری ثالثوں کی دونوں فریقوں سے الگ الگ بات چیت متوقع ہے۔
تین حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ثالث ایک ایسی ترمیم شدہ تجویز پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جاسکے گا اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے بعد ایران پر عائد پابندیوں کے معاملے پر پیش رفت کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کئی ماہ سے جاری ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی توانائی اور تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایران نے ایک تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی تھی، جس کے تحت امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی اور دیگر شرائط پوری ہونے کی صورت میں تہران نے سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایران کی اس تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات رواں ہفتے ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران قطری ثالث دونوں فریقوں کے درمیان نئی یا ترمیم شدہ تجویز پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی نیویارک میں موجود ہیں اور ایرانی حکام کے مطابق تہران ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔ حالیہ مذاکرات میں قطر نے اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بھی دونوں فریقوں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بات چیت ہوئی تھی۔
زیرِ غور تجاویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان الگ انتظام بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان آبنائے میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت جاری رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام ایران کے جوہری پروگرام پر بھی مزید یقین دہانیاں چاہتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں رسائی سمیت جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر پیش رفت کا خواہاں ہے۔
ثالثی کی کوششوں کا دائرہ صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں۔ مجوزہ سفارتی عمل میں خطے میں وسیع تر جنگ بندی، لبنان اور دیگر محاذوں پر کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔
تاہم فریقین کے درمیان اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ ایران امریکی ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ میں کمی کو اہم شرط قرار دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق مزید یقین دہانیاں چاہتا ہے۔ موجودہ کوششوں کا مقصد ان اختلافات کو ایک قابلِ قبول سمجھوتے میں تبدیل کرنا ہے۔