امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلیے تو وہ انہیں دنیا کو بلیک میل کرنے اور لوگوں کی جانیں لینے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور ایرانی تیل کو نکال کر دیکھا جائے تو اس راستے سے گزرنے والے تیل کی مقدار جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے ممکنہ اثر و رسوخ کو عالمی توانائی کی رسد کے لیے خطرہ قرار دیا۔
روبیو کے مطابق اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلیے تو تہران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر بڑھا سکتا ہے، وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرسکتا ہے اور دیگر ممالک کی توانائی تک رسائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرسکتا ہے۔
انہوں نے ایسے ممکنہ منظرنامے کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
مارکو روبیو نے ایران کی موجودہ حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تہران میں فیصلہ سازی مذہبی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران کو پابندیوں میں نرمی یا معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے بجائے ہتھیاروں کی تیاری اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت پر خرچ کرتا ہے۔
روبیو نے حزب اللہ، حماس اور عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں کی مبینہ مالی معاونت کے علاوہ دہشتگردی اور مبینہ قاتلانہ منصوبوں کی حمایت کے الزامات بھی عائد کیے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور ایران کا جوہری پروگرام اہم سفارتی معاملات بنے ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کے اہم نکات میں شامل قرار دے رہا ہے۔