ایک بل، دو مؤقف؛ سندھ کرسچن فیملی لاز پر کراچی بار میں اختلافات

فہرستِ مضامین

رپورٹ: اِشفاق احمد

سندھ کرسچن فیملی لاز بل 2026 کے معاملے پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے مؤقف میں بظاہر تضاد سامنے آگیا ہے۔ ایک جانب مسیحی وکلا کے ایک گروپ نے کراچی بار کی جانب سے 21 ستمبر کو جاری مذمتی بیان پر اعتراض کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ دوسری جانب کراچی بار ایسوسی ایشن نے 26 ستمبر کو جاری اپنے تازہ بیان میں بل پر مسیحی برادری کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے جامع مشاورتی عمل کی حمایت کی ہے۔

21 ستمبر 2026 کے مبینہ مذمتی بیان کے خلاف کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر کو بھیجے گئے خط میں 18 مسیحی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کے معاملے پر چند وکلا کی رائے کی بنیاد پر مذمت جاری کی گئی، جبکہ سینئر مسیحی وکلا سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔

خط میں کہا گیا کہ مذکورہ چار مسیحی وکلا تمام مسیحی وکلا کی نمائندگی نہیں کرتے اور ان کے اپنے نقطۂ نظر ہیں۔ خط میں ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئرمین متی اللہ گوندال کے کردار پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مذمتی بیان واپس یا منسوخ کیا جائے۔

مسیحی وکلا نے تجویز دی کہ مذمت واپس لینے کے بعد سینئر مسیحی وکلا کا باقاعدہ اجلاس بلایا جائے، معاملے پر تفصیلی مشاورت کی جائے اور اس کے بعد ضرورت کے مطابق کوئی نوٹس، مذمت یا سرکلر جاری کیا جائے۔

تاہم 26 ستمبر کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر امیر نواز وڑائچ اور ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئرمین متی اللہ گوندال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سندھ کرسچن فیملی لاز بل 2026 پر کرسچن لائرز فورم، مختلف چرچز، مذہبی رہنماؤں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے تحفظات اور اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

کراچی بار کے بیان کے مطابق بل سندھ اسمبلی میں پرائیویٹ بل نمبر 05 آف 2026 کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اسے مزید غور کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقلیتی امور کو بھیج دیا گیا ہے۔

تازہ بیان میں کراچی بار نے کہا کہ کسی بھی مذہبی برادری کے شخصی اور عائلی قوانین سے متعلق قانون سازی حساس معاملہ ہے، اس لیے متاثرہ برادری، قانونی نمائندوں، مذہبی رہنماؤں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی، جامع اور شفاف مشاورت ضروری ہے۔

بیان میں کراچی بار میں ہونے والے ایک مشترکہ مشاورتی اجلاس کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں کرسچن لائرز فورم، رکن سندھ اسمبلی روما مشتاق مٹو، چرچ نمائندگان، سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ کراچی بار کے مطابق اجلاس میں بل کو مسترد کرنے، بعض شقوں اور ان کی مسیحی مذہبی عقائد و روایات سے مطابقت پر اعتراضات سامنے آئے۔

کراچی بار نے حکومت سندھ، سندھ اسمبلی اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اقلیتی امور سے مطالبہ کیا کہ اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو مدنظر رکھا جائے اور قانون سازی کے عمل کو مزید آگے بڑھانے سے قبل تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مؤثر موقع دیا جائے۔

یوں ایک ہی معاملے پر سامنے آنے والی دونوں دستاویزات میں فرق نمایاں ہے: 21 ستمبر کے بیان کے خلاف جمع کرائے گئے خط میں بعض مسیحی وکلا نے کراچی بار کے مؤقف اور مشاورت کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے مذمت واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ 26 ستمبر کے کراچی بار کے بیان میں بل پر مسیحی اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے جامع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

کراچی بار کے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شخصی اور عائلی قوانین سے متعلق قانون سازی جامع مشاورت، مذہبی عقائد کے احترام اور آئینی و قانونی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں