اسلام آباد: خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر غور کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں آج اعلیٰ سطح کا اجلاس متوقع ہے، جس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزرا اور دیگر اہم حکام شریک ہوں گے، جبکہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ممکنہ اقدامات پر مشاورت ہوگی۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کا باضابطہ فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات کرنا قبل از وقت ہے اور وہ کسی قیاس آرائی پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی صوبے میں بدامنی کی صورت میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کی صورتحال سے صدر مملکت کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ پارٹی رہنما شوکت یوسفزئی نے مارچ ملتوی کرنے کے لیے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط بھی لکھا ہے۔
تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے معاملے پر اپنا مؤقف برقرار رکھا ہے، جس کے باعث وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔