فلائی دبئی طیارہ واقعہ: ذمہ دار کون؟ نیتن یاہو نے بتا دیا

فہرستِ مضامین

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے واقعے میں ایران یا کسی دوسرے فریق کے ملوث ہونے سے متعلق کہا ہے کہ اس مرحلے پر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ سعودی عرب میں گرفتار کیے گئے مبینہ حملہ آور سے تحقیقات جاری ہیں اور اسرائیل ممکنہ طور پر اس تحقیقات میں شامل ہوسکتا ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعے کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد موجود ہیں؟ اس پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ حملہ آور کے پیچھے کوئی اور شخص یا تنظیم تھی یا نہیں۔

پرواز میں کیا ہوا؟

فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی اور اس میں 174 افراد سوار تھے۔ دورانِ پرواز کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان پرتشدد واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں طیارے نے اچانک بلندی کھونا شروع کردی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا اور مبینہ طور پر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس کے بعد مسافروں اور عملے کے افراد نے مبینہ حملہ آور پر قابو پانے میں مدد کی۔

طیارہ سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں اضافی عملے کے پائلٹس نے طیارے کو بحفاظت لینڈ کرایا۔ تمام مسافر بعد میں اپنی منزل تل ابیب روانہ ہوگئے۔

نیتن یاہو کی زخمی پائلٹ کی تعریف

نیتن یاہو نے بھارتی کپتان سمت مچھ چہار کی بہادری کو بھی سراہا، جو واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق زخمی ہونے کے باوجود کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس سے مسافروں اور عملے کو مداخلت کا موقع ملا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی پائلٹ کی بہادری کو سراہا ہے۔

دہشت گردی یا کوئی اور محرک؟

اسرائیلی حکام نے واقعے کو مبینہ طور پر طیارہ گرانے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حملہ آور کے بارے میں مختلف امکانات کا ذکر کیا۔ تاہم واقعے کے اصل محرک اور ممکنہ پسِ پردہ عناصر کے بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے ایران کے ممکنہ کردار کے سوال پر واضح طور پر کہا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

فلائی دبئی کا مؤقف

فلائی دبئی نے واقعے کو کاک پٹ میں ہونے والی ایک پرتشدد جھڑپ قرار دیا ہے۔ ایئرلائن کے مطابق عملے نے ہنگامی صورتحال سے نمٹتے ہوئے طیارے کا رخ تبدیل کیا اور اسے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات اور محرکات کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات میں سعودی، اماراتی اور اسرائیلی حکام شامل ہیں، جبکہ فی الحال کسی بیرونی ملک یا تنظیم کے ملوث ہونے کی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں