چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری توسیع اور پاکستان کے پہلے کول ڈرائنگ یونٹ کا افتتاح کردیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر کول منصوبہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ تھر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا تھا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے کو کئی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، تاہم سندھ حکومت اور نجی سرمایہ کاروں کی شراکت داری سے اس سفر کو جاری رکھا گیا۔ ان کے مطابق 2008 میں پیپلز پارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا گیا اور مختلف چیلنجز کے باوجود اسے آگے بڑھایا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر اب معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کے مراکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ماضی میں جہاں علاقے میں بنیادی سہولیات محدود تھیں، آج وہاں سڑکیں، ہوائی اڈہ، اسکول، اسپتال اور صاف پانی کے منصوبے موجود ہیں۔
حکام کے مطابق تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری کی توسیع کے بعد کان کی سالانہ پیداواری صلاحیت 7.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہوگئی ہے، جس سے سالانہ مزید 3.6 ملین ٹن کوئلہ حاصل ہوگا۔
اضافی کوئلہ لکی الیکٹرک پاور کمپنی کے 660 میگاواٹ بجلی گھر کو فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد تھر بلاک ٹو سے پیدا ہونے والی مجموعی بجلی کی صلاحیت 1,320 میگاواٹ سے بڑھ کر 1,980 میگاواٹ ہوجائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت درآمدی کوئلے کے مقابلے میں کم ہے۔ فیز تھری توسیع سے سالانہ تقریباً 15 ارب روپے کی بجلی پیداواری لاگت اور تقریباً 22 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے، جبکہ منصوبے کے آغاز سے اب تک مجموعی زرمبادلہ کی بچت 1.7 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق تھر کول منصوبے سے وابستہ 94 فیصد ملازمین اور سروس فراہم کرنے والوں کا تعلق سندھ سے ہے، جبکہ 60 فیصد تھرپارکر کے رہائشی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تھر فاؤنڈیشن اور سندھ حکومت کی معاونت سے اب تک 5 لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت طبی علاج فراہم کیا جاچکا ہے، جبکہ ہر ماہ ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر سے زائد صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ کمیونٹی ترقی کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں 5 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
حکام کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے لیے تقریباً 12 لاکھ درخت بھی لگائے گئے ہیں، جبکہ متعدد گھرانے شمسی توانائی، صفائی ستھرائی اور روزگار کے منصوبوں سے مستفید ہورہے ہیں۔
دورے کے دوران بلاول بھٹو زرداری کو تھرپارکر میں ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق آگاہی مہمات، ٹیلی سائیکاٹری، نفسیاتی کیمپس اور طبی عملے کی تربیت سمیت مختلف اقدامات کے نتیجے میں علاقے میں خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ 2018 سے تھر میں ٹیلی سائیکاٹری سروس، تمام سات تحصیلوں میں مفت نفسیاتی کیمپس، طبی عملے کی تربیت اور ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہمات جاری ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ذہنی صحت کے شعبے میں جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے دور دراز اور کمزور طبقات کو علاج اور معاونت کی سہولیات کی فراہمی جاری رکھنے پر زور دیا۔
تقریب میں وفاقی و صوبائی اراکین اسمبلی، اعلیٰ سرکاری حکام، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی، تھر فاؤنڈیشن، مقامی کمیونٹی رہنماؤں اور شہریوں نے شرکت کی۔