سندھ حکومت نے صوبے کے 1,133 نئے اور اپ گریڈ کیے گئے سرکاری اسکولوں کے انتظام اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز (ای ایم اوز) کے ساتھ شراکت داری کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت ای ایم اوز، نجی اسکول مینجمنٹ، غیر سرکاری تنظیموں، نان فارمل ایجوکیشن اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ اداروں کے نمائندوں کا اجلاس ہوا، جس میں سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی شعبے کی شمولیت اور شراکت داری کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1,133 اسکولوں میں سے 838 سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ (SSEIP) جبکہ 295 اسکول SELECT پروگرام کے تحت شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعمیر ہونے والے ان اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں کلاس رومز، فرنیچر، سائنس لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریریاں، آر او پلانٹس، شمسی توانائی کے نظام اور چار دیواری سمیت دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔
یہ اسکول سندھ کے 19 اضلاع میں جدید تعلیمی کیمپس کے طور پر قائم کیے جارہے ہیں، جن میں خیرپور، نوشہروفیروز، قمبر شہدادکوٹ، ٹھٹھہ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، سجاول، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، دادو، گھوٹکی، ٹنڈو الہٰیار، عمرکوٹ، کشمور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور شکارپور سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ پبلک سیکٹر اکیلا تعلیم کے شعبے کا پورا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اس لیے تعلیم کے شعبے میں تجربہ رکھنے والے اداروں اور ماہرین کی شمولیت سے نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہر چیلنج کا اکیلے حل نہیں نکال سکتی، اس لیے تعلیم کے شعبے میں تجربہ اور مہارت رکھنے والے افراد اور اداروں کو ساتھ لانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نجی شعبے سے شراکت داری کا بنیادی مقصد سندھ کے دور دراز علاقوں میں بچوں کو معیاری تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تعلیم کے اس ماڈل کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے حالیہ جائزہ اجلاس میں اپ گریڈ کیے گئے اسکولوں کے لیے شفاف اور پائیدار ای ایم او فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے تاکہ تعلیمی نتائج کے ساتھ جوابدہی بھی یقینی بنائی جاسکے۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ای ایم اوز کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم تعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ای ایم او ماڈل میں صرف اسکول کی سرگرمیوں کے بجائے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور حقیقی نتائج کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ای ایم اوز کو اسکولوں کے انتظام، تعلیمی نتائج اور مقررہ کارکردگی کے اہداف کے حصول کا ذمہ دار بنایا جائے گا، جبکہ اسکولوں کی کارکردگی کی آزاد ماہرین اور آڈیٹرز کے ذریعے تصدیق کا نظام بھی شامل ہوگا۔
وزیر تعلیم کے مطابق ہر اسکول کے لیے اوپن اور مسابقتی درخواست برائے تجاویز (RFP) کے ذریعے شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ اہل اور تجربہ کار اداروں کا انتخاب میرٹ پر ہوسکے۔ تمام اسکولوں کی خریداری EPADS کے ذریعے سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2010 کے تحت کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 1,133 اسکولوں کی مرحلہ وار حوالگی کا عمل دسمبر 2026 سے دسمبر 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔ دستیاب سرکاری منصوبہ بندی کے مطابق 552 اسکول دسمبر 2026 تک جبکہ مزید 801 اسکول مارچ 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ باقی اسکولوں کی تکمیل کا ہدف دسمبر 2027 مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پہلے مرحلے کا آغاز نئے تعلیمی سال، یعنی اپریل 2027 سے کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر نے کہا کہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف منصوبے جاری ہیں اور حکومت ایسی شراکت داری چاہتی ہے جس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ ای ایم او ماڈل میں بھی بنیادی توجہ طلبہ کو بہتر تعلیمی مواقع اور معیاری تعلیم کی فراہمی پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں شفافیت، معیار اور عوامی مفاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، جبکہ ای ایم اوز کے جائز مطالبات اور خدشات کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نئے اور اپ گریڈ کیے گئے اسکول صرف عمارتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ وہاں مؤثر انتظام، قابل اساتذہ، بہتر تعلیمی ماحول اور قابلِ پیمائش تعلیمی نتائج بھی یقینی بنائے جائیں۔