اسلام آباد: حکومت پاکستان نے یمن کے حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے استعمال سے متعلق امریکی اخبار کی رپورٹ کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے فیکٹ چیک بیان میں نیو یارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں ایک سینیئر پاکستانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیارے حوثیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں اور پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کو حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیے جانے سے متعلق خبر بے بنیاد ہے۔
وزارت نے بین الاقوامی میڈیا پر زور دیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کے ممکنہ استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر پاکستانی مسلح افواج کو کسی کارروائی کیلئے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام خود فراہم کریں گے۔
دوسری جانب امریکی اخبار کی رپورٹ میں پاکستان میں امریکی فوج کے سابق ملٹری اتاشی اور ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سابق تجزیہ کار کرنل ڈیوڈ او سمتھ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ تقریباً 8 ہزار پاکستانی اہلکار سعودی عرب میں تعینات ہیں، جن میں پاک فضائیہ اور آرمی ایئر ڈیفنس کا دستہ بھی شامل ہے۔
کرنل ڈیوڈ او سمتھ کے مطابق امکان ہے کہ ان اہلکاروں کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کو فوری طور پر مشترکہ فوجی دستے اور ضروری دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس کے بعد پاکستانی فوج نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی افواج پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
تاہم حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کے استعمال کی خبر درست نہیں۔