کیا فلائی دبئی کا طیارہ خودکش حملے کے لیے استعمال ہونا تھا؟

فہرستِ مضامین

متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ فلائی دبئی کے ایک عمانی معاون پائلٹ نے دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کا کنٹرول سنبھال کر اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل سے طیارہ ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اماراتی حکام کے مطابق مبینہ منصوبے کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

عرب نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حماد سیف الشامسی نے بتایا کہ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ نے ایک سوچے سمجھے دہشت گردانہ منصوبے کے تحت طیارے کو ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل سے ٹکرانے کی کوشش کی۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملزم مبینہ طور پر 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے متاثر تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے پائلٹ بننے کا فیصلہ ہی اس ارادے سے کیا تھا کہ مستقبل میں کسی طیارے کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرے گا۔ اگرچہ اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم گزشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں اس کی شناخت ہمام الحمامی کے نام سے کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق الحمامی 2017 میں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں تعلیم کے دوران انتہا پسند نظریات سے متاثر ہونا شروع ہوا۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ وہ شدت پسند لٹریچر پڑھتا اور دہشت گرد تنظیموں اور خودکش حملوں کی حمایت میں شائع ہونے والے آن لائن مواد کا مطالعہ کرتا تھا۔

ملزم نے استغاثہ کو بتایا کہ وہ باقاعدگی سے ایک ایسی مسجد میں جاتا تھا جو رائل میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے منسلک تھی۔ وہاں اس کی ملاقات ایسے افراد سے ہوئی جو ’’مائی سینٹر‘‘ نامی اسلامی مرکز سے وابستہ تھے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ مرکز ’’ابو حمزہ‘‘ کے نام سے معروف ایک لبنانی شخص چلاتا تھا، جبکہ اسے مبینہ طور پر اخوان المسلمون سے منسلک ایک تنظیم کی حمایت حاصل تھی۔

اماراتی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انتہا پسند نظریات اپنانے کے باوجود الحمامی فلائی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے تمام پیشہ ورانہ اور سکیورٹی مراحل سے گزرنے میں کامیاب رہا۔ ان کے مطابق بھرتی کے کسی بھی مرحلے پر اس کے انتہا پسند خیالات یا مبینہ دہشت گردانہ منصوبے کے آثار سامنے نہیں آئے۔

رپورٹ کے مطابق الحمامی نے 2020 سے 2024 تک عمان ایئر میں کام کیا، جس کے بعد 2025 کے آغاز میں رائل ایئر ماروک میں ملازمت اختیار کی اور اسی سال جنوری میں فلائی دبئی کا حصہ بن گیا۔

تحقیقات میں مزید بتایا گیا کہ ملزم نے مبینہ حملے کی تیاری کے لیے تل ابیب جانے والی اپنی دو سابقہ پروازوں کے دوران پرواز کے راستے اور ہوائی اڈے کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔

اٹارنی جنرل کے مطابق واقعے کے دوران ایک پائلٹ، جو واپسی کی پرواز کے لیے مقرر تھا اور اتفاقاً طیارے میں موجود تھا، نے کاک پٹ کا دروازہ غیر معمولی انداز میں بار بار کھلتے اور بند ہوتے دیکھا۔ اسے شبہ ہوا تو وہ رسائی کا کوڈ استعمال کرکے کاک پٹ میں داخل ہوگیا، جہاں اس نے مبینہ حملے کی صورت حال دیکھی۔

حماد سیف الشامسی کے مطابق اس پائلٹ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے کیبن عملے کے ایک رکن اور چند مسافروں کی مدد سے زخمی کپتان کو بچایا اور مشتبہ معاون پائلٹ کو قابو میں کرلیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران طیارہ تقریباً 30 سیکنڈ میں قریب پانچ ہزار میٹر نیچے آگیا تھا، تاہم واپسی کی پرواز کے لیے مقرر پائلٹوں نے دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا، جس سے ممکنہ بڑے حادثے کو ٹالنے میں مدد ملی۔

اماراتی اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم نے اپنے مبینہ محرکات، منصوبہ بندی اور حملے کے مختلف مراحل سے متعلق تفصیلی اعترافی بیان دیا ہے۔ تاہم، اس کے اس دعوے کے باوجود کہ وہ اکیلا کام کر رہا تھا، تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس منصوبے میں کوئی اور شخص بھی ملوث تھا۔

واقعے کے بعد متعدد ممالک میں ملزم کے پس منظر اور روابط کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ آسٹریلوی پولیس نے اتوار کو تصدیق کی کہ وہ الحمامی کے آسٹریلیا سے تعلقات کی چھان بین کر رہی ہے، جبکہ متعلقہ یونیورسٹی نے بتایا کہ اس نے انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دی تھی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں