تھیٹر سے سڑکوں تک، نیہا بورا کا سفر کیسے بدلا؟

فہرستِ مضامین

تحریر: اِشفاق احمد

نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں نمایاں ہونے والی 29 سالہ نیہا بورا کا سفر تھیٹر سے شروع ہوا، لیکن اب وہ انتخابی بے ضابطگیوں، تعلیمی مسائل، بے روزگاری اور پولیس کارروائیوں کے خلاف مظاہروں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، نیہا بورا جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر ہیں۔ وہ ان نوجوان کارکنوں میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سیاسی اور سماجی سطح پر ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

نیہا بورا کو گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں اس وقت دیگر کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا جب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں مظاہرین مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

جب پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے روک دیا تو نیہا بورا نے انہیں تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع دلی ہاٹ میں جمع ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’’آج دلی ہاٹ ہی جنتر منتر بن جائے گا۔‘‘ اس کے بعد وہ خود بھی نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ وہاں روانہ ہوئیں۔

پولیس نے انہیں دیگر کارکنوں کے ساتھ حراست میں لے لیا، تاہم نیہا بورا نے اس دوران بھی احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا، ’’میں حراست میں ہوں، تحریک نہیں۔‘‘ انہوں نے ان مظاہرین سے بھی اپیل کی جنہیں پولیس نے آگے بڑھنے سے روک دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ پر رہتے ہوئے احتجاج جاری رکھیں۔ رائٹرز کے مطابق، انہیں اسی روز رہا کردیا گیا۔

انتخابی نظام پر سوالات اور سیاسی تنازع

احتجاج کرنے والے افراد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹرز کے ڈیٹا میں مبینہ بے ضابطگیوں کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ نام حذف کیے گئے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔

تاہم بھارتی الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی گروہ کی حمایت کرنے کی تردید کی ہے، جبکہ مودی کی جماعت کا مؤقف ہے کہ مخالفین جائز انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوری نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اس سیاسی تنازع کے دوران نیہا بورا نوجوان مظاہرین کے لیے ایک نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کی سرگرمیوں میں انتخابی عمل کی شفافیت، تعلیمی مسائل اور شہری حقوق جیسے معاملات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

تھیٹر نے سیاسی شعور کیسے بیدار کیا؟

نیہا بورا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدا میں سماجی کارکن بننے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ تھیٹر اور طلبہ کی احتجاجی سرگرمیوں نے انہیں سیاسی جدوجہد کی طرف آنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ریاست اتراکھنڈ میں پرورش پانے والی نیہا بورا کے والد فوج میں ملازمت کرتے تھے، جس کے باعث انہیں بچپن میں مختلف مقامات پر رہنے کا موقع ملا۔ بعدازاں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس میں ڈاکٹریٹ شروع کی۔

دہلی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ ایک تھیٹر گروپ کا حصہ بنیں۔ ان کے مطابق، تھیٹر نے انہیں مختلف لوگوں کی زندگیوں، تجربات اور نقطۂ نظر کو سمجھنے میں مدد دی، بالخصوص ان افراد کو جن سے وہ حقیقی زندگی میں اختلاف رکھ سکتی تھیں۔

ان کے لیے تھیٹر محض فن کا اظہار نہیں تھا بلکہ مختلف سماجی مسائل اور انسانی تجربات کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بنا۔ وقت کے ساتھ یہی تجربہ انہیں طلبہ سیاست اور احتجاجی سرگرمیوں کی جانب لے گیا۔

شہریت قانون کے خلاف احتجاج اہم موڑ ثابت ہوا

نیہا بورا کے سیاسی سفر میں 2019 اور 2020 کے دوران شہریت کے قانون کے خلاف ہونے والے طلبہ مظاہروں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس قانون کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔

ان مظاہروں کے دوران انہوں نے اپنی نسل کے طلبہ کو تعلیمی اداروں سے نکل کر سڑکوں پر اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھاتے دیکھا۔ ان کے مطابق، اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ کتابوں، فلموں اور دستاویزی پروگراموں میں زیر بحث آنے والے نظریات کو عملی سیاسی جدوجہد میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد نیہا بورا کی سرگرمیاں محض یونیورسٹی کے معاملات تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے وسیع تر سماجی اور سیاسی مسائل پر بھی آواز اٹھانا شروع کردی۔

امتحانی پرچوں کے مبینہ افشا اور بے روزگاری کے خلاف آواز

رائٹرز کے مطابق، نیہا بورا رواں سال جولائی میں امتحانی پرچوں کے مبینہ افشا کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھی نمایاں رہیں۔ انہوں نے دیگر کارکنوں کے ساتھ وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

نئی دہلی کے جنتر منتر پر کی جانے والی ان کی تقاریر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، جن میں وہ حکومتی پالیسیوں اور مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائیوں پر تنقید کرتی دکھائی دیں۔

نیہا بورا امتحانات سے متعلق تنازعات، نوجوانوں میں بے روزگاری اور پولیس کارروائیوں جیسے مسائل کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بناتی رہی ہیں۔ وہ ہندی اور انگریزی میں تقاریر کرتی ہیں اور طلبہ کے مسائل کو آئینی حقوق، سماجی عدم مساوات اور حکومت کی جواب دہی سے جوڑتی ہیں۔

دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے مظاہروں میں ان کی شرکت بڑھتی رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے دوران بھی انہیں متعدد مرتبہ حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم رہائی کے بعد وہ دوبارہ احتجاجی سرگرمیوں میں شریک ہوئیں۔

نوجوانوں میں احتجاج کا حوصلہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

نیہا بورا کے مطابق، موجودہ احتجاجی تحریک کے پیچھے کئی برسوں سے جمع ہونے والی شکایات، ناراضی اور مایوسی بھی اہم عوامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اپنی آواز بلند کرنے کا حوصلہ بڑھ رہا ہے کیونکہ انہیں احساس ہورہا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اپنے مطالبات پیش کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’خوف یقیناً پھیلتا ہے، لیکن امید بھی پھیلتی ہے۔ لوگوں میں اب ہمت ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمت دکھا سکتے ہیں۔‘‘

نیہا بورا کے بقول، عوام اپنے تجربات اور شکایات کو آسانی سے فراموش نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے، ’’لوگ یاد رکھتے ہیں۔ لوگ اپنی ناراضی، دھوکے کے احساس اور مایوسی کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔‘‘

نیہا بورا کا تھیٹر سے طلبہ سیاست اور پھر احتجاجی تحریکوں تک پہنچنے کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح تعلیمی تجربات، فنون لطیفہ اور سماجی مسائل میں دلچسپی کسی نوجوان کو سیاسی سرگرمیوں کی جانب لے جاسکتی ہے۔ تاہم ان کی تحریک اور اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے انتخابی شفافیت سے متعلق الزامات، حکومتی مؤقف اور نوجوانوں کے مطالبات کو الگ الگ دیکھنا بھی ضروری ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں