190 ملین پاؤنڈ کیس: عدالت سے بشریٰ بی بی کو ریلیف نہ ملا

فہرستِ مضامین

وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔

سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتوں نے ہمیشہ خواتین کے معاملات میں نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کا طرزِ عمل قابلِ اعتراض رہا، ادارے نے متعدد سماعتوں پر التوا لیا اور سزا معطلی کی درخواست کی بھی مخالفت کی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ سزا سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست کے لیے قانونی جواز موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے کی بنیاد پر سزا معطل کرنے کی استدعا کی، تاہم مقدمے میں زیادہ تر توجہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی اپیل پر مرکوز رہی۔

اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اس مرحلے پر مقدمے کے میرٹ میں جانے کے بجائے سزا معطلی کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔

بینچ کے رکن جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ مرکزی اپیل کتنی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہے۔

عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو تحریری دلائل کے نکات جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔ بعدازاں چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ عدالتی حکم کا انتظار کیا جائے۔

تاہم عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں