تحریر: اِشفاق احمد
یمن کی حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کو عموماً ایران سے قربت، سعودی عرب کے ساتھ تنازع اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم اس تحریک کی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے اس کے مذہبی اور سیاسی نظریات کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کی فکری بنیادوں میں ایسا تصور نمایاں ہے جو دنیا کو دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کرتا، مخصوص مذہبی نظریے کو حق قرار دیتا اور بعض سیاسی تنازعات کو مذہبی فریضے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
حوثی تحریک کی ابتدا 1990 کی دہائی میں شمالی یمن کے مذہبی حلقوں سے ہوئی۔ اس کے فکری بانی حسین الحوثی تھے، جو یمن کے سیاسی و مذہبی نظام میں اہلِ بیت سے تعلق رکھنے والے خاندان کی قیادت پر زور دیتے تھے۔ ان کی سوچ میں زیدی شیعہ مکتبِ فکر کی بعض تشریحات کے ساتھ ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر سیاسی نظریات بھی شامل ہوتے گئے۔ وقت کے ساتھ مذہبی تعلیم اور تبلیغ پر توجہ دینے والی یہ تحریک سیاسی تنظیم سازی اور مسلح جدوجہد کی طرف بڑھ گئی۔
مذہبی اختلاف سے دشمنی کے تصور تک
حسین الحوثی کی تحریروں میں امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ 17 جنوری 2002 کو صعدہ کے علاقے مران میں واقع امام الہادی اسکول میں انہوں نے ’’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد‘‘ کے نعرے متعارف کرائے۔ وہ ایران کے سابق رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کے نظریات اور حزب اللہ کی مزاحمتی سیاست سے متاثر تھے۔
تاہم عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حسین الحوثی کا نظریاتی مؤقف صرف بیرونی طاقتوں کی مخالفت تک محدود نہیں تھا۔ ان کی بعض تحریروں میں دوسرے مذہبی مکاتبِ فکر اور تاریخی اسلامی شخصیات کے بارے میں سخت مؤقف بھی سامنے آتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی نظریات سے اختلاف کرنے والوں کو گمراہ یا کافر قرار دینے کے قائل تھے۔
ان کے رسالوں، بالخصوص ’’الولاء والبراء‘‘ یعنی وفاداری اور دشمنی، میں مذہبی وابستگی اور مخالفین کے بارے میں تصورات کو نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ اس طرزِ فکر میں اختلاف کو محض علمی یا مذہبی اختلاف سمجھنے کے بجائے بعض اوقات دشمنی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، ایسا نظریاتی زاویہ سیاسی مخالفین کو بھی مذہبی دشمن کے طور پر پیش کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہاں یہ فرق اہم ہے کہ کسی نظریاتی تحریر کا وجود بذاتِ خود ہر بعد کے حملے کا براہِ راست جواز ثابت نہیں کرتا، تاہم ایسی تحریریں تحریک کے سیاسی مؤقف اور مخالفین کی درجہ بندی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
مذہبی نیٹ ورک سے مسلح تحریک تک
1996 میں بدرالدین الحوثی اور ان کے بیٹوں نے حزب الحق سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اپنی توجہ الشباب المؤمن نامی تنظیم پر مرکوز کر دی۔ یہ تنظیم صعدہ، ذمار، عمران اور یمن کے دوسرے علاقوں میں پھیلنے لگی۔ اس کے ذریعے مذہبی تعلیم، لیکچرز، سیمینارز اور نوجوانوں کے تربیتی کیمپوں کے ذریعے تحریک کے نظریات کو فروغ دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، حسین الحوثی نے ایران کے مذہبی اور انقلابی تصورات سے اثر قبول کیا اور اپنی تحریک کو منظم کرنے کے لیے وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ اس عمل میں مذہبی تعلیم کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں اور مسلح تصادم کی تیاری کو بھی اہمیت دی گئی۔
2004 میں حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان مسلح لڑائی شروع ہوئی۔ 2004 سے 2010 کے دوران مختلف مراحل میں جنگ جاری رہی اور یہ تنازع صعدہ سے نکل کر دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ اس دوران حوثی تحریک نے اپنی عسکری صلاحیت اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا۔
ایران کے انقلاب سے فکری قربت
حوثی تحریک کے نظریاتی ارتقا میں ایران کے اسلامی انقلاب کا اثر ایک اہم موضوع رہا ہے۔ حسین الحوثی نے اپنی تحریروں اور تقاریر میں خمینی کی تعریف کی اور ایران کے انقلاب کو امریکہ اور مغربی اثرورسوخ کے خلاف جدوجہد کی مثال کے طور پر پیش کیا۔
تاہم زیدی شیعہ روایت اور ایران کے اثناعشری شیعہ نظام کے درمیان مذہبی و فکری اختلافات بھی موجود ہیں۔ زیدی روایت میں تاریخی طور پر ظالم حکمران کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے، جبکہ ایران کا انقلابی نظام ولایتِ فقیہ کے تصور پر قائم ہے۔ حوثی تحریک کے بعض نظریات میں ان دونوں روایتوں کے اثرات کو یکجا ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس قربت کو صرف مذہبی تعلق کے طور پر دیکھنا بھی کافی نہیں۔ ایران اور حوثیوں کے درمیان سیاسی و عسکری روابط نے علاقائی طاقت کے توازن، سعودی عرب کے ساتھ تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری محاذ آرائی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
صنعاء پر قبضے سے علاقائی تنازع تک
2011 میں حوثیوں نے یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاجی تحریک میں حصہ لیا، لیکن اقتدار کی منتقلی کے لیے خلیجی ممالک کے حمایت یافتہ منصوبے پر ان کے تحفظات برقرار رہے۔ ستمبر 2014 میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا اور بعد ازاں جنوب کی جانب پیش قدمی کی۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد یمن کی جنگ میں شامل ہو گیا۔
اس کے بعد حوثی تحریک ایک مقامی مسلح گروہ سے بڑھ کر ایسی علاقائی عسکری قوت بن گئی جس کے پاس میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے دور مار حملے کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں نے اس کی عسکری پہنچ کو نمایاں کیا۔ 2019 میں سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے بڑے حملوں نے بھی خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد لڑائی میں کمی آئی، لیکن نومبر 2023 میں غزہ جنگ کے دوران حوثیوں نے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں فلسطینیوں کی حمایت میں کی جا رہی ہیں۔ ان حملوں کے باعث متعدد شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستے پر بھیجنا شروع کیا، جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔
مخالفین کی تعریف اور تشدد کا جواز
حوثی تحریک کے نظریاتی بیانیے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد کو محض اقتدار کی کشمکش کے بجائے مذہبی مشن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سوچ میں تحریک اپنے آپ کو دین کے تحفظ اور امت کی اصلاح کے لیے منتخب قوت کے طور پر پیش کر سکتی ہے، جبکہ مخالفین کو مذہبی یا سیاسی مقصد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔
23 فروری 2012 کو حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز میں تحریک کے مذہبی اصولوں اور سیاسی مؤقف کو بیان کیا گیا تھا۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس میں تحریک کے لیے خصوصی مذہبی حیثیت اور امتِ مسلمہ کی تجدید کے مشن کا تصور پیش کیا گیا۔ ایسے دعوے کسی تحریک کی اندرونی وابستگی مضبوط کر سکتے ہیں، لیکن جب انہیں دوسرے عقائد کی نفی یا مخالفین کے اخراج کے ساتھ جوڑا جائے تو مذہبی اختلاف مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
اس نظریاتی ڈھانچے کا جائزہ لیتے وقت یہ بھی ضروری ہے کہ تمام زیدی مسلمانوں یا شیعہ مکاتبِ فکر کو حوثی تحریک کے نظریات کے ساتھ یکساں نہ سمجھا جائے۔ کسی مخصوص سیاسی و عسکری تنظیم کے مؤقف کو پورے مذہبی مکتبِ فکر کی نمائندگی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اصل خطرہ کیا ہے؟
حوثیوں کی جنگی حکمتِ عملی کو صرف میزائلوں، ڈرونز یا ایران کے ساتھ تعلقات تک محدود کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے مذہبی شناخت، سیاسی اقتدار، علاقائی رقابت اور مزاحمت کے بیانیے سمیت کئی عوامل کارفرما ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ جب کوئی تحریک اپنے نظریے کو واحد درست راستہ قرار دے، مخالفین کو مذہبی دشمن کے طور پر پیش کرے اور سیاسی جدوجہد کو مقدس فریضہ بنا دے تو اختلاف اور تشدد کے درمیان حد کس طرح متاثر ہوتی ہے؟
حوثی تحریک کی تاریخ اس سوال کو سمجھنے کے لیے ایک اہم مثال فراہم کرتی ہے۔ اس کے نظریاتی بیانیے اور عسکری سرگرمیوں کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی تصورات سیاسی تنظیم سازی اور جنگی حکمتِ عملی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم شہریوں پر حملوں اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے ہر کارروائی، اس کے ذمہ داروں اور اس کے جواز سے متعلق دعوؤں کو الگ الگ شواہد کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔