اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان کی کثرتِ رائے سے توثیق کردی گئی۔ تحریک کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 56 ووٹ ڈالے گئے، اس دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔
جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے صدارتی فرمان کی توثیق کے لیے تحریک پیش کی۔
تحریک پر ووٹنگ کے دوران 214 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 56 ارکان نے مخالفت کی۔ اس طرح تحریک کثرتِ رائے سے منظور ہوگئی، تاہم اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے حکومتی اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔
اس سے ایک روز قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قراردادیں منظور کی گئی تھیں۔ قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان چار گھنٹے سے زائد بحث ہوئی، جس کے دوران اپوزیشن نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت فرمان جاری کیا
خیال رہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا کی صورتِ حال کے حوالے سے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صدارتی فرمان جاری کیا تھا۔
ایوانِ صدر کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس کی منظوری دی تھی۔ حکومت نے اس اقدام کو صوبے کی سلامتی کی صورتِ حال سے جوڑا ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ جاری تھا اور پارٹی قیادت نے اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم حکومتی اقدام کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ساتھیوں سمیت حراست میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ لانگ مارچ بھی ختم ہوگیا۔
پی ٹی آئی کا عدالتی کارروائی کا اعلان
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
صوبے میں وفاقی حکومت کے اس اقدام نے سیاسی اور پارلیمانی حلقوں میں بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر اختلافات پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں بھی نمایاں رہے۔
محسن نقوی کا مؤقف: ایمرجنسی آئین کے تحت نافذ کی گئی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا کے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی تھی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش کی گئی تمام چھ تجاویز تسلیم کرنے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے تحت کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ فوج اور پولیس کے اہلکار دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں قربان کررہے تھے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان کے خلاف تقاریر کرتے تھے۔ ان کے مطابق حکومت نے سیاسی معاملات کو دہشت گردی سے منسلک نہیں کیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایوان میں مذاکرات ہوئے اور بات چیت کا آغاز دہشت گردی کے معاملے سے کیا گیا تھا۔ اس دوران دہشت گردی سے متعلق سات سے آٹھ نکات پر گفتگو ہوئی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدارتی فرمان کی توثیق کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتی چیلنج کے اعلان کے بعد اس معاملے پر آئینی اور سیاسی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔
خبر کو مختصر اور تیز بنائیںتکرار کم کرکے متن سنواریںحکومتی اور اپوزیشن مؤقف متوازن کریں