یمن: یمن کی وزیرِ خارجہ افراح الزوبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثی ملیشیا کو مزید وقت دیا گیا تو وہ ایک ایسی طاقت بن جائے گی جسے شکست دینا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمنی حکومت اب حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات کی خواہش مند نہیں اور کسی بھی سیاسی عمل کے لیے سخت شرائط ضروری ہوں گی۔
بدھ کو ورچوئل پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افراح الزوبہ نے کہا کہ حوثیوں کو مزید وقت دینا انہیں دوبارہ منظم ہونے، اسلحہ جمع کرنے اور اپنی عسکری طاقت بڑھانے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔
ان کے بقول، اگر عالمی برادری نے اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو حوثی ایک ’ناقابلِ شکست بھوت‘ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ملیشیا کا خطرہ اب یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہارن آف افریقہ ت پھیل چکا ہے۔
یمن کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حکومت اس امید پر مزید انحصار نہیں کرسکتی کہ حوثیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرکے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ان کے مطابق ماضی میں امن کی کوششوں نے حوثیوں کو دوبارہ منظم ہونے، ہتھیار حاصل کرنے اور ریاستی اداروں پر حملے کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت نہ جنگ بندی کی اپیل کررہی ہے اور نہ ہی حوثیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش مند ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی عمل کے لیے ایسی شرائط طے کرنا ضروری ہوگا جن پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت
افراح الزوبہ نے اپنی بریفنگ کا آغاز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کے اہلِ خانہ اور سعودی حکومت سے تعزیت کے اظہار کے ساتھ کیا۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین، سوڈان اور بھارت کے شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
یمنی وزیرِ خارجہ نے اسی ہفتے عدن ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ حوثی ملیشیا اب صرف یمن کے داخلی تنازع کا فریق نہیں رہی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
ایران پر حوثیوں کی معاونت کا الزام
افراح الزوبہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ، مالی وسائل، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کررہا ہے۔ ان کے مطابق تہران حوثیوں کو امریکا سمیت عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات اور سعودی عرب کی جانب سے تیل کی برآمدات کو مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کی طرف منتقل کیے جانے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ان کے مطابق حوثیوں نے بحیرہ احمر میں حملوں کے ذریعے عالمی تجارت اور سمندری راستوں کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی بحری آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کو بھی ناقابلِ اعتبار قرار دیا۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کو مبینہ اسلحہ فراہمی کے شواہد پیش کرتے ہوئے انہوں نے 2013 میں ایرانی ہتھیاروں سے لدے مال بردار جہاز ’جہان 1‘ کی ضبطی اور 2025 میں حوثیوں کے لیے بھیجے جانے والے تقریباً 750 ٹن سامان اور ہتھیاروں کی برآمدگی کا حوالہ دیا۔ ان واقعات کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل نے کی تھیں۔
الزوبہ کے مطابق حوثی اب محض ایرانی عسکری مہارت سے فائدہ اٹھانے والے گروہ نہیں رہے بلکہ وہ خطے میں اس نوعیت کی مہارت اور سرگرمیوں کو آگے پھیلانے کی صلاحیت بھی حاصل کرچکے ہیں۔
حوثیوں کا نیٹ ورک افریقہ تک پھیلنے کا خدشہ
یمنی وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حوثی عسکری انجینئرز نے صومالیہ کا سفر کیا، جہاں الشباب کے جنگجوؤں کو دھماکہ خیز مواد کے استعمال، ڈرون میں تبدیلیوں اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال سے متعلق تربیت دی گئی۔
انہوں نے اس مبینہ پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کو یمن سے آگے افریقی خطے تک پہنچنے والا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اس صورتِ حال کے باعث ہارن آف افریقہ کی سلامتی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے بین الاقوامی تجارت کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ منتقل ہوتا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں پر دباؤ عالمی جہاز رانی کے لیے سنگین نتائج پیدا کرسکتا ہے۔
’آپریشن ڈان آف یمن‘ کے تحت فوجی کارروائیاں جاری
افراح الزوبہ نے بتایا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے حکم پر 4 اکتوبر کو شروع کیا گیا ’آپریشن ڈان آف یمن‘ اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت جاری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آپریشن کا فیصلہ، کمان اور فوجی کارروائیاں یمنی قیادت کے زیرِ انتظام ہیں، جبکہ اتحادی شراکت دار یمنی حکومتی فورسز کو فضائی معاونت فراہم کررہے ہیں۔
ان کے مطابق العمالقہ بریگیڈز، نیشنز شیلڈ فورسز اور باقاعدہ یمنی فوج ایک متحد کمانڈ اور مشترکہ آپریشنز کمیٹی کے تحت کام کررہی ہیں۔ اتحادی ممالک کے ساتھ رابطوں کا مقصد یمنی فورسز کی مدد کرنا ہے، نہ کہ ان کی جگہ خود کارروائیاں کرنا۔
وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ حکومتی فورسز نے آبنائے باب المندب کے سامنے واقع اہم ساحلی مقامات کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے، جبکہ تعز، مأرب، حدیدہ اور مغربی ساحل کے علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ آسان نہیں، لیکن ان کے نزدیک اسے جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
تعز کا محاصرہ اور انسانی بحران
افراح الزوبہ نے الزام عائد کیا کہ حوثیوں نے 2022 سے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ کرنے کے ساتھ یمن کی تیل اور گیس کی برآمدی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حکومت کو آمدنی کا نقصان ہوا۔
انہوں نے تعز شہر کے گنجان آباد علاقوں میں حوثیوں کے طویل محاصرے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی، ایندھن اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔
ان کے مطابق گردوں کے سیکڑوں مریضوں کو ڈائیلاسز کی سہولت سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ حکومت نے اسپتالوں اور پانی کی تنصیبات کے لیے ایندھن کی فراہمی کی غرض سے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس سے رابطہ کیا ہے، جبکہ خوراک اور پانی کی ترسیل کے لیے نجی کمپنیوں سے بھی بات چیت جاری ہے۔
وزیرِ خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تازہ کشیدگی کے بعد دو لاکھ 17 ہزار سے زیادہ یمنی شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور اقوامِ متحدہ کے 72 اہلکاروں کو حراست میں رکھنے پر بھی حوثیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکا اور یورپی یونین سے مزید اقدامات کا مطالبہ
افراح الزوبہ نے امریکا پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے مالی معاونین، جہاز رانی کے نیٹ ورکس، مبینہ فرنٹ کمپنیوں اور اسلحہ فراہم کرنے والوں کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کرے۔
انہوں نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون بڑھائے۔ اس کے علاوہ یمنی فوج اور کوسٹ گارڈ کو انٹیلیجنس معلومات، تربیت اور ضروری سازوسامان فراہم کرنے کی اپیل بھی کی۔
ان کے مطابق تنازع کے کسی بھی حل میں حوثیوں کو ہتھیار ڈالنے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے مطابق شرائط پوری کرنے کا پابند بنانا ضروری ہے۔
لبنان میں حزب اللہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن ایسی صورتِ حال دہرانا نہیں چاہتا جس میں کوئی مسلح تنظیم ریاستی اداروں کے متوازی طاقت کا مرکز بن جائے۔
افراح الزوبہ نے اپنے مؤقف کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان تنازع دو مساوی قانونی اختیارات کے درمیان اختلاف نہیں، بلکہ ان کے بقول ایک ایسی مسلح ملیشیا کا معاملہ ہے جس نے طاقت کے ذریعے ریاستی اداروں اور علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی مبینہ معاونت، حوثیوں کے حملوں اور انسانی بحران سے متعلق یہ الزامات یمنی وزیرِ خارجہ کے بیان پر مبنی ہیں؛ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔