واشنگٹن: امریکی فوج ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے نئے فوجی منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جن میں دنیا کے بڑے غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے ’مدر آف آل بمز‘ کا استعمال بھی شامل ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق، یہ آپشن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دیے جانے کی صورت میں زیرِ غور آسکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے سی این این کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی فوجی منصوبہ بندی سے واقف حکام کے مطابق، ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں اس طاقتور بم کے استعمال پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس بم کا استعمال جنگ میں شدت پیدا کرسکتا ہے، تاہم اس کی ممکنہ کامیابی اور امریکی فوجی مقاصد کے حصول میں اس کی افادیت کے حوالے سے سوالات بھی موجود ہیں۔ روئٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ سی این این کی اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔
’مدر آف آل بمز‘ کیا ہے؟
’مدر آف آل بمز‘ امریکی فوج کے طاقتور غیر جوہری بموں میں سے ایک ہے، جسے سرکاری طور پر جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) کہا جاتا ہے۔
یہ ایک انتہائی طاقتور روایتی بم ہے، جسے بڑے زمینی اہداف اور وسیع علاقے میں تباہی پھیلانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس کا نام اور غیر معمولی تباہ کن صلاحیت اسے امریکی اسلحے کے نمایاں ترین ہتھیاروں میں شامل کرتی ہے۔
تاہم ایران کے خلاف اس بم کے ممکنہ استعمال سے متعلق رپورٹ میں کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی غیر یقینی
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا۔ اس کے بعد سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔
جنگ روکنے کے لیے مختلف ممالک نے ثالثی کی کوششیں کیں اور مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی اور عبوری معاہدے کی کوشش بھی سامنے آئی، تاہم یہ انتظام برقرار نہ رہ سکا اور فریقین کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔
حالیہ صورتِ حال میں ایران نے عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات اور ایران جنگ
امریکا میں نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جارہا ہے۔
ایران جنگ، توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات امریکی سیاست میں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے سے حکمران جماعت کی انتخابی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم ہوجائے گی۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کے ممکنہ منصوبوں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ خطے میں کشیدگی کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات اٹھا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے خلاف ’مدر آف آل بمز‘ استعمال کرنے کا معاملہ فی الحال سی این این کی رپورٹ میں سامنے آنے والے ایک ممکنہ فوجی آپشن کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ اس کے استعمال کے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔