ڈبلیو ٹی این کراچی
سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکیوٹو افسر ( سی ای او) مونس علوی کو عھدے سے ہٹانے کا صوبائی محتسب اعلیٰ کا حکمانہ معطل کردیا، محتسب اعلی نے خاتون افسر کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر مونس علوی کو عھدے سے برطرف کرنے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ کی آئینی بینچ میں نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے خلاف صوبائی محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے مونس علوی کو 25 لاکھ روپے بطور جرمانہ جمع کرانے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔
مونس علوی نے صوبائی محتسب کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ دوران سماعت مونس علوی کے وکیل بیرسٹر عابد زبیری نے مؤقف اپنایا کہ یہ کیس صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
کیس صوبائی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کے الیکٹرک نہ صرف کراچی بلکہ حب اور وندر جیسے علاقوں میں بھی خدمات فراہم کرتا ہے، اس لیے یہ ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جس پر وفاقی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔
عدالت نے سماعت کے بعد محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
خاتون کی شکایت پر عہدے سے ہٹانے کا حکم
واضح رہے کہ صوبائی محتسب نے حال ہی میں ایک خاتون کی شکایت پر مونس علوی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف مونس علوی نے عدالت سے رجوع کیا۔
یاد رہے صوبائی محتسب برائے ورک پلیس ہراسمنٹ جسٹس ریٹائرڈ شاہ نواز طارق نے خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر سی ایس او کے الیکٹرک کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔صوبائی محتسب نے سی ای او کے الیکٹرک پر 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا تھا۔
صوبائی محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر مونس علوی مقررہ جرمانہ ادا نہ کریں تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے اور ان کا پاسپورٹ بھی بلاک کیا جائے۔
مہرین زہرا نامی خاتون نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے خلاف “پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010” کے تحت صوبائی محتسب کے دفتر میں شکایت درج کرائی تھی۔
ہراسانی، دھمکیاں اور ذہنی اذیت کے الزامات
متاثرہ خاتون نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا کہ انہیں اکتوبر 2019 میں بطور کنسلٹنٹ بھرتی کیا گیا تھا، لیکن بعد میں 26 دسمبر 2019 کو سی ایم سی او کے طور پر کام کرنے کے لیے راضی کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملازمت کے دوران مونس علوی کی جانب سے انہیں نامناسب تبصروں اور حرکات کا سامنا کرنا پڑا۔ درخواست میں خاتون افسر نے الزام لگایا کہ انہیں رات کے وقت اکیلے کافی یا ڈنر کی دعوت دی گئی، جہاں نامناسب اور نازیبا تبصرے کیے گئے۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ مونس علوی نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں وہ خود کو مسلسل خطرے میں محسوس کرتی رہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر مبینہ طور پر ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے دستیاب رہنے کا دباؤ ڈالا گیا، اور اکثر ویک اینڈز پر اس وقت ون ٹو ون ملاقات کے لیے بلایا جاتا تھا جب دفتر میں کوئی اور موجود نہ ہوتا تھا۔