اسرائیل کا امریکا کو خفیہ الرٹ، ایران پر ٹرمپ کے خلاف نئے مبینہ منصوبے کا دعویٰ

فہرستِ مضامین

اسرائیل نے امریکا کو ایک نئی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ فراہم کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نیا اور مخصوص منصوبہ بنا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن پہلے ہی ٹرمپ کو لاحق ممکنہ خطرات سے متعلق مختلف خفیہ اطلاعات کا جائزہ لے رہا تھا، تاہم اسرائیل کی تازہ وارننگ ایک نئے اور مخصوص منصوبے سے متعلق تھی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے حال ہی میں سامنے آنے والی نئی معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کی ہیں۔

یاد رہے کہ ایران ماضی میں بھی جنرل قاسم سلیمانی کی 2020 میں امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد ٹرمپ سے انتقام لینے کے عزم کا اظہار کرتا رہا ہے۔ سلیمانی کی ہلاکت کا حکم ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران دیا تھا۔

اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران انہیں اپنا ہدف سمجھتا ہے اور وہ مبینہ طور پر ایرانی قیادت کی “ہر فہرست” میں شامل ہیں۔

ادھر ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے بعد واپسی کے لیے اپنا پرانا ایئر فورس ون استعمال کیا، جبکہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا نیا طیارہ برطانیہ بھیج دیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا، کیونکہ نئے طیارے میں ابھی تمام حفاظتی نظام مکمل طور پر فعال نہیں تھے۔

نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ امریکی خفیہ سروس کی سفارش پر حفاظتی اقدامات کے تحت طیارہ تبدیل کیا گیا، تاہم ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ ایران ماضی میں بھی انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں سے منسلک رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں