ایلی کاٹ کون تھے؟ حیدرآباد کے مشہور جلوس کی اصل حقیقت

فہرستِ مضامین

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ہر سال محرم کو ایک ماتمی جلوس نکلتا ہے، جسے لوگ ‘ایلی کاٹ کا پڑ یا جلوس’ کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ ایلی کاٹ کون تھے؟
ایک انگریز افسر کا بیٹا، جو نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ اپنی زندگی، خاندان اور شناخت تک چھوڑ کر غمِ حسین سے ایسا وابستہ ہوا کہ آج بھی اس کے نام کا جلوس نکالا جاتا ہے۔
یہ کہانی ہے چارلی ایلی کاٹ کی، جنہیں بعد میں لوگ علی گوہر کے نام سے جاننے لگے۔
حیدرآباد کے بزرگوں کے مطابق ایلی کاٹ ایک سفید فام انگریز تھے۔ ان کے والد برطانوی دور میں سندھ میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز تھے جبکہ والدہ لیڈی ڈفرن اسپتال حیدرآباد کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی والدہ خود بھی محرم کے جلوسوں میں نذر و نیاز کیا کرتی تھیں اور چھوٹے ایلی کاٹ کو سیاہ لباس پہنایا کرتی تھیں۔ شاید یہی وہ ابتدائی تعلق تھا جس نے بعد میں ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
کہانی کا اصل موڑ اس وقت آیا جب ایلی کاٹ نے اپنے ڈرائیور عبدالغفور چانڈیو سے واقعۂ کربلا اور حضرت علی کی زندگی کے واقعات سنے۔

یہ صرف ایک داستان نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا پیغام تھا جس نے ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ روایت کے مطابق ایلی کاٹ نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ وہ بھی ایک ماتمی جلوس نکالنا چاہتے ہیں۔ جواب ملا کہ اس راستے میں بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔
لیکن ایلی کاٹ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
پھر محرم کی پہلی تاریخ آئی۔ حیدرآباد کے پکے قلعے سے ذوالجناح کا جلوس نکلنے کی تیاری تھی۔ عین اسی دن ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جسے ان کے ساتھی ایک امتحان قرار دیتے ہیں۔ صبح انھوں نے اپنی والدہ کو سپردِ خاک کیا اور شام کو سیاہ لباس پہن کر ننگے پاؤں ماتمی جلوس میں شامل ہوگئے۔
وقت کے ساتھ ایلی کاٹ نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام علی گوہر رکھ لیا۔
لیکن یہ تبدیلی صرف نام کی نہیں تھی۔
روایات کے مطابق جب انھوں نے اپنی انگریز بیوی سے کہا کہ وہ مومن بننا چاہتے ہیں، اب ان کے سامنے دو راستے رکھے۔ یا تو وہ بھی اسلام قبول کر لیں یا واپس انگلینڈ چلی جائیں۔

بیوی نے دوسرا راستہ چنا اور بچوں سمیت انگلینڈ واپس چلی گئی۔ علی گوہر نے خاندان کی جدائی قبول کر لی، مگر اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی انھوں نے انگلینڈ واپس جانے سے انکار کر دیا۔ کچھ عرصہ اجمیر شریف میں گزارا اور پھر حیدرآباد واپس آکر سادہ زندگی اختیار کر لی۔
17 اپریل 1971 کو علی گوہر، یعنی ایلی کاٹ، اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
مگر ان کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔
آج بھی حیدرآباد میں ان کے نام سے منسوب پڑ موجود ہے، اور گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے محرم کی آٹھ تاریخ کو ان کی یاد میں ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک شخص کی مذہبی وابستگی کی داستان نہیں، بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ کربلا کا پیغام زبان، نسل، رنگ اور قومیت کی سرحدوں سے کہیں بڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک انگریز نوجوان چارلی ایلی کاٹ، حیدرآباد کی تاریخ میں علی گوہر بن کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں