تحریر: اِشفاق احمد
عرب خلیجی ریاستیں کئی دہائیوں تک امریکا کو اپنی سلامتی کا سب سے اہم ضامن سمجھتی رہی ہیں، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اس تعلق کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ نے 2018 میں سعودی عرب کے بادشاہ کے بارے میں کہا تھا کہ امریکا ان کی حفاظت کر رہا ہے اور اس کے بدلے انہیں اپنی فوجی سکیورٹی کے اخراجات ادا کرنے چاہییں۔ اس بیان نے خلیجی قیادت کو یہ احساس دلایا کہ واشنگٹن اب اس شراکت داری کو روایتی اسٹریٹجک تعلق کے بجائے زیادہ کاروباری انداز میں دیکھ رہا ہے۔
2019 میں سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر ہونے والے بڑے حملے نے خلیجی ممالک کے خدشات میں مزید اضافہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل پیداوار عارضی طور پر نصف رہ گئی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں۔ اگرچہ امریکا نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا، لیکن خلیجی ممالک کے ذہنوں میں یہ سوال برقرار رہا کہ آیا واشنگٹن واقعی ان کے دفاع کے لیے براہِ راست ایران کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے یا نہیں۔
ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت تک خلیجی ریاستیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی شروع کر چکی تھیں۔ جب خلیجی ممالک نے امریکی معیشت میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے تو ٹرمپ نے اپنی پہلی سرکاری بیرونِ ملک سفارت کاری کے لیے خلیجی خطے کا انتخاب کیا۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا خطے کے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تاہم رواں سال یہ یقین دہانی ایک بڑے امتحان سے گزری، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں۔ اس کے جواب میں ایران نے خطے میں شدید جوابی حملے کیے، جن کا اثر کئی خلیجی ممالک پر بھی پڑا۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی کہ امریکی سکیورٹی ضمانتوں کی حقیقی حیثیت کیا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کے دورے پر پہنچے ہیں۔ ان ممالک کو ایران کے حملوں سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا اور یہی ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابھرنے والے نئے سمجھوتے کے بارے میں سب سے زیادہ محتاط سمجھے جا رہے ہیں۔
کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات کو نظرانداز نہیں کرے گا اور ہر اہم فیصلے میں انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن اپنے دیرینہ اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کو نئے امریکا۔ایران معاہدے پر کئی تحفظات ہیں۔ معاہدے میں نہ تو ایران کے میزائل پروگرام کا کوئی واضح حل موجود ہے اور نہ ہی اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے بارے میں کوئی جامع لائحہ عمل سامنے آیا ہے۔ خلیجی ریاستیں ان معاملات کو ایران کے جوہری پروگرام سے بھی زیادہ فوری خطرہ تصور کرتی ہیں۔
اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری سرگرمیوں کی نگرانی میں ایران کو باضابطہ کردار دیا گیا ہے، جس سے خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات اور سمندری تجارت پر تہران کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی خلیجی دارالحکومتوں میں اس معاہدے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے مجوزہ فنڈ نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اس منصوبے کے لیے خلیجی مالی معاونت کی بات کر چکے ہیں، لیکن اب تک سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے اس حوالے سے کوئی واضح مالی وعدہ نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کار حسن الحسن کے مطابق ایران جنگ نے خطے کے سکیورٹی نظام کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک جنگ کے بجائے کسی بھی قسم کے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن انہیں خدشہ ہے کہ ایران کو ملنے والی معاشی اور سیاسی سہولتیں مستقبل میں تہران کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
ادھر خلیجی ریاستیں اب بھی امریکا کو اپنا بنیادی سکیورٹی شراکت دار سمجھتی ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ اپنے دفاعی اور سفارتی آپشنز کو بھی وسعت دے رہی ہیں۔ بعض ممالک ترکی سمیت دیگر ذرائع سے دفاعی سازوسامان حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ طویل المدتی عدم جارحیت کے معاہدے کی تجاویز بھی زیر بحث آ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف سفارت کاری سے خلیجی ممالک کے تمام سکیورٹی خدشات دور نہیں ہوں گے۔ ان کا خیال ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور مؤثر دفاعی صلاحیتوں کے بغیر کسی بھی عدم جارحیت معاہدے کی کامیابی یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور اس کے بعد ہونے والے سفارتی معاہدوں نے خلیجی ممالک کو اپنے روایتی اتحادیوں اور علاقائی حکمت عملیوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ امریکا خطے میں موجود رہے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مستقبل کے سکیورٹی نظام میں اس کا کردار کتنا مؤثر اور قابلِ اعتماد ہوگا۔