کراچی: سندھ حکومت نے کسانوں کو منظم اور مضبوط بنانے کے لیے “سندھ فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز ایکٹ 2026” کے مسودے کا قانونی اور انتظامی جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ مجوزہ قانون کو منظوری کے لیے کل (منگل) سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
اس حوالے سے سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی راجویر سنگھ سوڈھا نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو، ایڈیشنل سیکریٹری قانون، ڈپٹی سیکریٹری زراعت اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے، جہاں مجوزہ قانون کی مختلف قانونی اور انتظامی شقوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ مجوزہ ایکٹ کے تحت کم از کم آٹھ کسان، جن کے پاس مجموعی طور پر 50 ایکڑ زرعی زمین ہو، مل کر ایک ایگریکلچرل کلیکٹو قائم کر سکیں گے۔ جبکہ کاچھو اور بارانی علاقوں میں یہ حد 70 ایکڑ مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ قانون کے مطابق ایک سے 25 ایکڑ تک زرعی زمین رکھنے والے افراد کو چھوٹا کسان تصور کیا جائے گا تاکہ انہیں خصوصی سہولیات اور حکومتی معاونت فراہم کی جا سکے۔
صوبائی وزرا کے مطابق نئے قانون کے تحت سندھ ایگریکلچرل کلیکٹوز ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی، جو زرعی کلیکٹوز کی رجسٹریشن، نگرانی اور ریگولیشن کی ذمہ دار ہوگی۔
مجوزہ قانون کے مطابق ہر زرعی کلیکٹو میں ایک جنرل باڈی اور منتخب منیجمنٹ کمیٹی ہوگی، جبکہ تمام اراکین کو ووٹ ڈالنے، معلومات تک رسائی اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔
صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ مجوزہ ریگولیٹری اتھارٹی ضلعی سطح پر زرعی کلیکٹوز کے مؤثر قیام، رجسٹریشن اور نگرانی کو یقینی بنائے گی، تاکہ کسان اجتماعی طور پر اپنی زرعی سرگرمیوں کو فروغ دے سکیں اور جدید زرعی نظام سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکیں۔
اس موقع پر وزیر قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ مجوزہ قانون کے بارے میں صوبہ بھر میں آگاہی سیمینارز منعقد کیے جائیں، تاکہ کاشتکار اس قانون کے فوائد، طریقہ کار اور اس کے تحت دستیاب سہولیات سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکیں۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز ایکٹ 2026 کا مقصد کسانوں کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا، جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینا اور چھوٹے کاشتکاروں کی معاشی حالت بہتر بنانا ہے۔